
فرزانہ استاد کے کمرے میں داخل ہوئی تاکہ املا کا امتحانی پرچہ انہیں دے دے۔ وہی پر ٹیچر، ریحانہ کی والدہ سے گفتگو کر رہی تھی۔۔۔
ریحانہ بہت محنتی بچی ہے لیکن اس دفعہ اس نے امتحان میں بہت کم نمبر لیے ہیں اور ۔۔۔۔
اچانک ٹیچر نے دیکھا کہ فرزانہ چھپ کر ان کی باتیں سن رہی ہے لیکن ٹیچر نے اسے نظر انداز اپنی بات کو جاری رکھا۔ جب فرزانہ گراؤنڈ میں کھیل رہی تھی تو ٹیچر آہستہ آہستہ فرزانہ کے پیچھے پہنچ گئی۔ فرزانہ جو باتیں اپنی دوست کے بارے میں سن چکی تھی کسی اور کے سامنے بیان کر رہی تھی۔ ٹیچر نے فرزانہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: میری پیاری بچی! کسی کی چھپ کر باتیں سننا اور جاسوسی کرنا بہت ہی گٹھیا اور بری حرکت ہے۔ ایسا کرنے سے خدا کے نزدیک ہمارا مرتبہ کم ہو جاتا ہے اور دوسروں کی نظروں میں بھی ہمارا مقام باقی نہیں رہتا۔
فرزانہ نے جب ٹیچر کی باتوں پر غور کیا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ ریحانہ کو تلاش کرنے کے لیے دوڑ پڑی تاکہ اس کے ساتھ کھیلے اور جو مٹھائی ساتھ لائی تھی اس کے ساتھ کھائے اور اس سے اپنے کیے کی معافی بھی مانگے۔


































