تحریر: سویرا بتول
تنظیم ایک عظیم درسگاہ ہے، تنظیم معاشرے کی وحدت اور ارتقاءکا بہترین ذریعہ ہے۔ تنظیم انسان سازی، معاشرہ سازی، امربالمعروف و نہی عن المنکر، اپنے حقوق کے دفاع اور استعمار و اسکتبار کے خلاف جدوجہد کرنے کا بہترین اور موثر وسیلہ ہے۔ تنظیم ایک خاص نظام سے عبارت ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم عقیدہ افراد مشخص اور معین اہداف تک رسائی کے لیے ایک دوسرے سے ہمکاری اور تعاون کرتے ہیں، اس طرح سے فیصلے کرتے ہیں اور انہیں اجراءاور عمل کے مراحل سے گزارتے ہیں۔ تنظیم کا ثمرہ یہ ہے کہ افراد میں امور کی تقسیم، ان کے دائرہ کار اور مسﺅلیت کا دقیق تعین کیا جائے اور انہیں ایک خاص نظم میں رکھتے ہوئے اِن کی مدیریت کی جائے۔ اس طرح کا نظم اور ہم آہنگی افراد کی اجتماعی جدوجہد کے لیے قوت اور طاقت کا باعث ہے۔
اگر ہم ایک بڑا کام کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمارا ایمانی، اعتقادی، دینی رابطہ اگر ایک تنظیم کی لڑی میں پرویا ہوا نہ ہو تو بڑے کام کے کسی چھوٹے ہدف تک تو پہنچا جا سکتا ہے، لیکن مجموعی طور پر اس بڑے ہدف کی تحصیل ناممکن ہے۔ تنظیم نظم امر کم کا بارزترین مصداق ہے، جو کسی ملت کے امور کو نظم دینے کا ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کی سرزمین پر جہاں نظامِ ولایت قائم ہے، وہاں رہبرِ معظم آیت اللہ خامنہ ای، آیت اللہ شہید ڈاکٹر بہشتی، شہید جواد باہنر اور انقلاب کی دیگر عظیم شخصیات جو انقلاب کے اصلی ستون ہیں، امام خمینیؒ کی تائید سے ایران کی عظیم ملت کے امور کو نظم دینے کے لیے حزب جمہوری اسلامی کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اس طرح رہبرِ معظم کی سرپرستی میں آج بھی تنظمیں کام کر رہی ہیں اور رہبر خود ان کی راہنمائی فرماتے ہیں۔
لبنان کی سرزمین میں حزب اللہ کی بنیاد جو کہ امام خمینی اور رہبرِ معظم کی سرپرستی میں رکھی گئی اور پاکستان میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کا قیام، جس کے بارے میں رہبرِ معظم نے فرمایا کہ “اس تنظیم کے نوجوان میری آنکھوں کا نور اور میری امید ہیں۔” ولایتِ فقیہ کے پرچم کے سائے میں اپنے انقلابی اور دینی امور کو آگے بڑھا رہی ہے۔ آج ملتِ پاکستان اور بالخصوص تشیع میں جو بیداری ہے، اس کا سرچشمہ یہی الہیٰ تنظیم ہے۔ آئی ایس او ملت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ایک مادر تنظیم ہے۔ مجھ سمیت نجانے ملت کے کتنے نوجوانوں کو باہدف زندگی کی طرف متوجہ کیا ہے۔
اسلامی تنظیم کی ایک بنیادی ذمہ داری اقدار کی حفاظت ہے۔ پس تنظیم کو اقدار کا محافظ ہونا چاہیئے نہ کہ اپنا۔ ہمیں اپنی ساری جدوجہد اس راہ میں خرچ کرنی چاہیئے۔ ممکن ہے کہ بہت سے امور میں ہمیں اپنے احباب سے اختلافات ہوں، حتی الامکان کوشش کریں کہ اختلافات کو ختم کریں۔ ایک دوسرے کی خطاو ¿ں سے چشم پوشی کریں، ہمارا ہدف رضائے الہیٰ اور مہدوی معاشرے کا قیام ہے۔ اپنے اختلافات کو اپنے امامؑ کی خاطر طول نہ دیں۔ شہداءکی زندگیوں میں فکر کریں اور دیکھیں کہ شہداء نے کیسے خود کو کمال تک پہنچایا۔ وہ تمام مشکلات جن کا ہمیں سامنا ہے، یہ مشکلات ا ±س زمانے میں بھی موجود تھیں، مگر شہدائے اسلام نے خود کو نام نہاد مصلحتوں کے تابع نہیں کیا۔ اختلافات کو ہوا نہیں دی، بلکہ خاموشی سے راہِ امام میں اپنا کام جاری رکھا۔ اس دعا کے ساتھ کہ ہم اپنے باہمی اختلافات کو بھلا کر الہیٰ اہداف کے حصول کے لیے سالوں سے جاری ان کاوشوں کو جاری رکھیں گے اور شہید ڈاکٹر محمد علی کے ویڑن کو تاحیات اپنی زندگی کا رول ماڈل بنائیں گے، بحقِ توفیق خدائے مہدی (عج):
تنظیم بڑی چیز ہے اے اہلِ چمن
بکھرے ہوئے پھولوں کو گلستاں نہیں کہتے
| ReplyReply allForward |


































