
امریکی صدر جوبائیڈن سعودی ولی عہد کے بجائے صرف شاہ سلمان کے ساتھ بات چیت کریں گے اورصرف ان ہی سے ہی رابطہ رکھیں گے،وائٹ ہاوس
امریکا آئندہ ہفتے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق انٹلیجنس کمیونٹی کی رپورٹ شائع کرے گا،رپورٹ میں بن سلمان کو قتل کے حکم دینے کو تسلیم کیا گیا ہے
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) امریکا کی نئی حکومت نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے دوری اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا،جوبائیڈن انتظامیہ اب شاہ سلمان سے براہ راست تعلق رکھے گی، ترجمان وائٹ ہاوس نے میڈیا کو بتایا کہ جوبائیڈن سعودی ولی عہد کے بجائے صرف شاہ سلمان کے ساتھ بات چیت کریں گے اور صرف سعودی شاہ سے ہی رابطہ رکھیں گے، صدر جو بائیڈن مشرق وسطیٰ میں تعلقات کا از سر نو جائزہ لیں گے، آئندہ سے امریکی پالیسی قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ترجیج دینے پر مبنی ہو گی ،ادھر واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ دی ہے کہ امریکا آئندہ ہفتے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق انٹلیجنس کمیونیٹی کی رپورٹ شائع کرے گا، انٹیلی جنس کمیونٹی کی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کی 2 اکتوبر 2018 کو قتل کا فرمان جاری کیا تھا ، رپورٹ کو امریکا کے قومی انٹلیجنس شعبے کے ڈائریکٹر نے تیار کیا ہے اس سے پہلے وائٹ ہاوس کی ترجمان جین ساکی نے اطلاع دی تھی کہ بائیڈن انتظامیہ، سعودی عرب کے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں خفیہ رپورٹ کو کانگریس کے لئے شائع کرنے کو تیار ہے


































