
لاہور:مجلس وحدت مسلمین نے متحدہ علماء کونسل میں شعیہ ممبران کی تعداد دیگر مسالک کی تعداد کے برابر نہ کرنے پر21 جون کو پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاج کااعلان کردیا مسئلہ حل نہ ہونےپر 25 جون کو محکمہ اوقاف کے باہر دھرنا دیا جائے گا مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل مجلس وحدت مسلمین علامہ احمد اقبال رضوی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ احتجاج کے بعد بھی اگر حکومت سنجیدہ نہ ہوئی تو پورے ملک سے شعیان حیدر کرار لاہور کا رخ کریں گے انہوں نے کہا کہ متحدہ علماء بورڈ میں شعیہ مسلک کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے اس ملک کو افراتفری کا شکار کرنے کے لئے پاکستان میں مسلکی جنگ چھیڑی گئی ماضی کی حکومتوں کے بیرونی آقاؤں اور اقتدار کو طول دینے کے لئے ملک میں منافرت ایجاد کی گئی ملک میں گزشتہ 40 سالوں سے فرقہ واریت جاری ہے شعیان حیدر کرار کو دیوار سے لگایا گیااب پھر سے فرقہ واریت شروع ہوگئی ہے۔
گزشتہ سال عزاداری کو محدود کرنے کی سازش کی گئی, عزاداروں کو گرفتار کیا گیا ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کئے گئےعزاداری سید الشہداء ہماری عبادت ہے اس پر کوئی قدغن برداشت نہیں کر سکتے
حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عزاداری کی حفاظت کرے نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کریں. انہوں نے کہا کہ متحدہ علماء بورڈ میں ملت جعفریہ کے ممبر صرف پانچ ہیں جبکہ باقی مسالک کے ممبرز زیادہ ہیں پی ٹی آئی کی جانب سے بورڈمیں شعیان حیدر کرار کی تعداد نصف کردی گئی ہےیہ ملت جعفریہ کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک ہے.


































