
اسلام آباد: وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا ہےکہ امریکی صدر کو پاکستان سے بات نہیں کرنی تو نہ کریں، یہاں کوئی انتظار نہیں کر رہا، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ افغانستان کے معاملے میں چیزیں اچھی نہیں ہیں، ہمیں موجودہ حالات پر بہت تشویش ہے، ہم آخری دن تک کوشش کرتے رہیں گے کہ صلح سے حل نکل آئے اور معاملہ خانہ جنگی کی طرف نہ جائے، انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اخبار سے پتا چلا امریکا کب افغانستان سے جائیگا، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی امریکا کی تذلیل ہو لیکن پاکستان کی طرف انگلی اٹھائی جائے گی تو جواب آئے گا کیونکہ پاکستان سے زیادہ افغان امن عمل کی کسی نے سپورٹ نہیں کیا، ہم جو کچھ کر سکتے تھے کیا اب فیصلہ وہاں ہونا ہے، معید یوسف کا کہنا تھا کہ امریکا 20 سال رہنے کے بعد ایسے نہیں جانا چاہتا یہ امریکا کا بہت بڑا نقصان ہے، افغانستان میں استحکام ہر کوئی چاہتا ہے اور عمران خان شروع سے کہہ رہے ہیں کہ افغانستان کا فوجی حل نہیں، یہ بات اسی وقت سوچ لیتے تو معاملات بہتر ہو جاتے، انہوں نے مزید کہا کہ آخری دن تک کوشش کریں گے کہ افغانستان میں معاملہ حل ہو جائے، جنہوں نے ٹھیکہ لیا تھا انہوں نے اب معاملہ کسی اور پر ڈال دیا، اب آگے بات کرتے ہیں کہ معاملہ پاکستان کی وجہ سے ہے یہ قابل قبول نہیں، امریکا کو دو طرفہ ڈائیلاگ کی بات کرنا چاہیے۔


































