Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

”اللہ“ کائنات کا خالق

سورج فضا میں ایک مقررہ راستہ پر کئی ارب سالوں سے چھ سو میل فی سیکنڈ کی رفتار سے مسلسل بھاگا جارہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا خاندان۹سیارے، ۷۲ چاند اور لاکھوں میٹرائٹ کا فاصلہ اسی رفتار سے چل رہا ہے۔ کبھی نہیں ہوا کہ تھک کر کوئی پیچھے رہ جائے یا غلطی سے کوئی ادھر ادھر ہو جائے۔ سب اپنی اپنی راہ پر اپنے اپنے پروگرام کے مطابق نہایت تابعداری سے چلے جارہے ہیں ۔
اب بھی اگر کوئی کہے چلتے ہیں لیکن چلانے والا کوئی نہیں، ڈیزائن ہے لیکن ڈیزائنر نہیں ، قانون ہے لیکن قانون کو نافز کرنے والا نہیں کنٹرول ہے ، لیکن کنٹرولر نہیں بس یہ سب ایک حادثہ ہے ۔ اسے آپ کیا کہیں گے؟
چاند تین لاکھ ستر ہزار میل دور زمین پر سمندروں کے اربوں کھربوں ٹن پانیوں کو ہر روز دو دفعہ مدوجزر سے ہلاتا رہتا ہے تاکہ ان میں بسنے والی مخلوق کے لئے ہوا سے مناسب مقدار میں آکسیجن کا انتظام ہوتا رہے۔ پانی صاف ہوتا رہے، اس میں تعفن پیدا نہ ہو۔ ساحلی علاقوں کی صفائی ہوتی رہے اور غلاظتیں بہہ کر گہرے پانیوں میں چلتی جائیں۔ یہی نہیں بلکہ سمندروں کا پانی ایک خاص مقدار میں کھارا ہے۔ پچھلے تین ارب سال سے نہ زیادہ نہ کم نمکین بلکہ ایک مناسب توازن برقرار رکھے ہوئے ہے تاکہ اس میں چھوٹے بڑے سب آبی جانور آسانی سے تیر سکیں اور مرنے کے بعد ان کی لاشوں سے بو نہ پھیلے۔ انہی میں کھاری اور میٹھے پانی کی نہریں بھی ساتھ ساتھ بہتی ہیں۔ سطح زمین کے نیچے بھی میٹھے پانی کے سمندر ہیں جو کھارے پانی کے کھلے سمندروں سے ملے ہوئے ہیں۔ سب کے درمیان ایک غیب پردہ ہے تاکہ میٹھا پانی میٹھا رہے اور کھارا پانی کھارا۔
اس حیران کن انتظام کے پیچھے کون سی عقل ہے؟ اس توازن کو کون برقرار رکھے ہوئے ہے؟کیا پانی کی اپنی سوچ تھی یا چاند کا فیصلہ؟
نومولود بچے کو کون سمجھاتا ہے کہ بھوک کے وقت رو کر ماں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائے؟ ماں کو کون حوصلہ دیتا ہے کہ ہر خطرے کے سامنے سینہ سپر ہو کر بچے کو بچائے۔ ایک معمولی سی چڑیا شاہین سے مقابلہ پر اتر آتی ہے، یہ حوصلہ اسے کس نے دیا؟ مرغی کے بچے انڈے سے نکلتے ہی چلنے لگتے ہیں ، حیوانات کے بچے بغیر سکھائے ماں کی طرف دودھ کے لئے لپکتے ہیں، انہیں یہ سب کچھ کون سکھاتا ہے؟
یہ آداب زندگی انہوں نے کہاں سے سیکھے؟
شہد کی مکھیاں دوردراز باغوں میں ایک ایک پھول سے رس چوس چوس کر انتہائی ایمانداری سے لاکر چھتے میں جمع کرتی جاتی ہیں ۔ ان میں سے ہر ایک ماہر سائنسدان کی طرح جانتی ہیں کہ کچھ پھول زہریلے ہیں، ان کے پاس نہیں جائیں۔ ایک قابل انجینئر کی طرح شہد اور موم کو علیہدہ علیحدہ کرنے کا فن بھی جانتی ہیں۔ جب گرمی ہوتی ہے تو شہد کو پگھل کر بہہ جانے سے بچانے کے لئے اپنے پروں کی حرکت سے پنکھا چلا کر ٹھنڈا بھی کرتی ہیں، موم سے ایسا گھر بناتی ہیں جسے دیکھ کر بڑے سے بڑے آرکیٹکٹ بھی حیرت زدہ ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں ایسے منظم طریقے سے کام کرتی ہیں کہ مثال نہیں ۔ ہر ایک میں ایسا راڈار نظام نسب ہے کہ وہ دور دور نکل جاتی ہیں لیکن اپنے گھر کا راستہ نہیں بھولتیں۔ اس زندگی کے یہ طریقے کس نے سکھائے؟
انہیں یہ عقل کس نے دی؟
مکڑا اپنے منہ کے لعاب سے شکار پکڑنے کے لئے ایسا جال بناتا ہے کہ جدید ٹیکسٹائل انجینئر بھی اس بناوٹ کا ایسا نفیس دھاگا بنانے سے قاصر ہیں۔
گھریلو چیونٹیاں گرمیوں میں موسم سرد کے لئے خوراک جمع کرتی ہیں۔اپنے بچوں کے لئے گھر بناتی ہیں ،ایک ایسی تنظیم سے رہتی ہیں جہاں منیجمنٹ کے تمام اصول حیران کن حد تک کارفرما ہیں۔
ٹھنڈے پانیوں میں رہنے والی مچھلیاں اپنے انڈے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور گرم پانیوں میں دیتی ہیں لیکن ان سے نکلنے والے بچے جوان ہو کر ماں کے وطن خودبخود پہنچ جاتے ہیں۔
نباتات کی زندگی کا سائیکل بھی کم حیران کن نہیں، جراثیم اور بیکٹیریا کیسے کروڑوں سالوں سے اپنی بقا کو قائم رکھے ہوئے ہیں؟
زندگی کے گر انہیں کس نے سکھائے؟ سوشل مینجمنٹ کے یہ اصول انہیں کس نے سکھائے؟ کیا زمین اس قدر عقل مندہے؟ کہ اس نے بھی خودبخود لیل و نہار کا نظام قائم کرلیا۔ خود بخود ہی اپنے محور پر 1/2 67ڈگری جھگ گئی تاکہ سارا سال موسم بدلتے رہیں۔ کبھی بہار، کبھی گرمی، کبھی سردی اور کبھی خزاں تاکہ اس پر بسنے والوں کو ہر طرح کی سبزیاں ، پھل اور خوراک سارا سال ملتی رہیں۔
زمین نے اپنے اندر شمالاً جنوباً ایک طاقتور مقناطیسی نظام بھی خودبخود ہی قائم کرلیا؟
تاکہ اس کے اثر کی وجہ سے بادلوں میں بجلیاں کڑکیں جو ہوا کی نائٹروجن کو نائیٹریس آکسائیڈ میں بدل کر بارش کے ذریعے زمین پر پودوں کے لئے قدرتی کھاد مہیا کریں، سمندروں پر چلنے والے بحری جہاز ، آبدوز اور ہواﺅں میں اڑنے والے طیارے اس مقناطیس کی مدد سے اپنا راستہ پائیں۔ آسمانوں سے آنے والی مہلک شعائیں اس مقناطیسیت سے ٹکراکر واپس پلٹ جائیں تاکہ زمینی مخلوق ان کے مہلک اثرات سے محفوظ رہے اور زندگی جاری رہے۔
زمین ، سورج، ہواﺅں، پہاڑوں اور میدانوں نے مل کر سمندر کے ساتھ سمجھوتا کر رکھا ہے تاکہ سورج کی گرمی سے آبی بخارات انہیں ، ہوائیں ، اربوں ٹن پانی کو اپنے دوش پر اٹھا کر پہاڑوں اور میدانوں تک لائیں۔ ستاروں سے آنے والے ریڈیائی درے بادلوں میں موجود پانی کو اکٹھا کرکے قطروں کی شکل دیں اور پھر یہ پانی میٹھا بن کر خشک میدانوں کو سیراب کرنے کے لئے برسے۔ جب سردیوں میں پانی کی کم ضرورت ہوتی ہے تو یہ پہاڑوں پر برف کے ذخیرے کی صورت میں جمع ہو جاتا ہے۔ گرمیوں میں جب زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے تو پگھل کر ندی نالوں اور دریاﺅں کی صورت میں میدانوں کو سیراب کرتے ہوئے واپس سمندر تک پہنچ جاتا ہے۔ایک ایسا شاندار متوازن نظام جو سب کو سیراب کرتا ہے اور کچھ بھی ضائع نہیں ہوتا۔
کیا یہ بھی ستاروں، ہوا اور زمین کی اپنی باہمی سوچ تھی؟
ہمارے (لبلبے) خون میں شوگر کی ایک خاص مقدار کو بڑھنے نہیں دیتے ، دل کا پمپ ہر منٹ میں ستر اسی دفعہ منظم باقاعدہ خون پمپ کرتا رہتا ہے ایک 75سالہ زندگی میں بلا مرمت تقریباً تین ارب بار دھڑکتا ہے ۔
ہمارے گردے صفائی کی بے مثل اور عجیب فیکٹری ہیں جو جانتی ہے کہ خون میں جسم کے لئے جو مفید ہے وہ رکھ لینا ہے اور فضلات کو باہر پھینک دینا ہے۔
معدہ حیران کن کیمیکل کمپلیکس ہے جو خوراک سے زندگی بخش اجزا مثلاً پروٹین ، کاربوہائیڈریٹس وغیرہ کو علیحدہ کرکے خون کے حوالہ کردیتا ہے اور فضات کو باہر نکال دیتا ہے۔
انسانی جسم میں انجینئرنگ کے یہ شاہکار، سائنس کے یہ بے مثل نمونے، چھوٹے سے پیٹ میں یہ لاجواب فیکٹریاں ، کیا یہ سب کچھ یوں ہی بن گئے تھے؟
ہر انسان کھربوں خلیات کا مجموعہ ہے۔ اتننے چھوٹے کہ خوردبین کی مدد کے بغیر نظر نہیں آتے، لیکن سب کے سب جانتے ہیں انہیں کیا کرنا ہے ۔ یوں انسان کا ہر ایک خلیہ شعور رکھتا ہے اور اپنے وجود میں مکمل شخصیت ہے۔ ان جینز میں ہماری پروگرامنگ لکھی ہے اور زندگی اس پروگرام کے مطابق خودبخود چلتی رہتی ہے۔ ہماری زندگی کا پورا ریکارڈ، ہماری شخصیت ہماری عقل و دانش غرض ہمارا سب کچھ پہلے ہی سے ان خلیات پر لکھا جاچکا ہے۔ یہ کس کی پروگرامنگ ہے؟
حیوانات ہوں یا نباتات، ان کے بیج کے اندر ان کا پورا نقشہ بند ہے، یہ کس کی نقشہ بندی ہے؟ خوردبین سے بھی مشکل نظر آنے والا خلیہ ایک مضبوط توانا عقل و ہوش والا انسان بن جاتا ہے۔ یہ کس کی بناوٹ ہے؟
ساڑھے چودہ سوسال پہلے جب جدید سائنس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ عرب کے صحرازدہ ملک میں جہاں کوئی اسکول اور کالج نہیں تھا۔ اللہ کا نبی حضرت محمد اٹھ کر سورج اور چاند کے بارے میں کہتا ہے کہ ”یہ سب ایک حساب کے پابند ہیں۔“(سورہ الرحمن آیت 5)
سمندروں کی گہرائیوں کے متعلق بتاتا ہے کہ:”ان کے درمیان برج (Barrier) ہے جو قابو میں رکھے ہوئے ہے۔“(سورہ الرحمن آیت۰۲)
جب ستاروں کو اپنی جگہ لٹکے ہوئے چراغ کہا جاتا تھا وہ کہتا ہے یعنی سب کے سب اپنی مدار پر تیر رہے ہیں۔(سورہ یٰسین آیت۰۴)
جب سورج کو ساکن تصور کیا جاتا تھا وہ کہتا ہے :
یعنی سورج اپنے لئے مقررشدہ راستے پر کسی انجانی منزل کی طرف ہمیشہ سے چلا آرہا ہے۔(سورہ یٰسین آیت۸۳)
جب کائنات کو ایک جامد آسمان (چھت) کو کہا جاتا تھا وہ کہتا ہے یہ پھیل رہی ہے(سورہ الذریات آیت ۷۴)
وہ نباتات اور حیوانی زندگی کے بارے میں بتاتا ہے کہ ان سب کی بنیاد پانی ہے۔ بیشک پوری کائنات کا بنانے والا کوئی ہے اور وہ اللہ ہے۔ جو ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں۔

ReplyReply allForward

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular