Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

اتحاد کی برکت

کبوتر خوش خوش آزاد فضا میں نیلے آسمان کے نیچے اڑ رہے تھے ، آسمان ان کی وجہ سے خوبصورت لگ رہا تھا، کچھ دیروہ سب کبوتر آرام کرنے کے لئے ایک درخت پر بیٹھ گئے درخت کے نیچے گندم کے دانے بکھرے پڑے تھے ، کبوتروں میں سے ایک نے یہ دیکھا تو اڑ کر درخت کے نیچے آگیا اور دانے کھانے لگا، دانے لذیز اور تازہ تھے اس لئے اس نے دوسرے دوستوں کو بھی بلایا تاکہ وہ بھی مزیدار دانے کھائیں ، سب کبوتر نیچے اترے اور دانے کھانے میں مشغول ہوگئے ، جب ان کا پیٹ بھرچکا تو ان میں سے ایک نے اڑنے کی کوشش کی لیکن نہ اڑ سکا۔ یکایک اسے احساس ہوا کہ وہ کسی جال میں پھنس گیا ہے، دوسرے کبوتروں نے بھی اڑنے کی کوشش کی لیکن ناکام ہوگئے کیونکہ وہ سبھی جال میں پھنسے ہوئے تھے ، شکاری جو قریب ہی بیٹھا ہوا تھا کبوتروں کی آواز سن کر ان کی طرف دوڑنے لگا۔
کبوتروں نے بہت کوشش کی لیکن جال سے نکلنے میں ناکام ہوئے۔ ان میں سے ایک نے جس کا نام طوقی تھا کہا: دوستو! اچھا ہوتا اگر ہم یہ سوچتے کہ یہ مزیدار اور تازہ دانے کیوں بکھیرے گئے ہیں ، اگر ہم سوچتے تو ہمارا ایسا حال نہ ہوتا، اب بھی اگر ہم متحد ہو جائیں تو ہم آزاد ہو سکتے ہیں ،یہ آرام سے بیٹھنے کا وقت نہیں ہے۔ آئیں ہم سب اڑتے ہیں ، شکاری جیسے ہی جال کے قریب پہنچا تو طوقی نے پرواز کا حکم دے دیا ، کبوتروں نے طوقی کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے ایک ہو کر زور دیا۔ جال ان کا راستہ نہ روک سکا اور وہ ایک بار پھر آسمان میں اڑنے لگے۔
شکاری نے اپنے آپ سے کہا : یہ کبوتر بالآخر تھک کر اترنے پر مجبور ہو جائیں گے ، میں ان کا پیچھا کرتا ہوں ، ادھر کبوتر پوری قوت کے ساتھ اڑتے ہوئے شکاری کی نظروں سے غائب ہوگئے، کچھ دیر کے بعد وہ سب دریا کے کنارے پر اترے ، دریا کے کنارے پر ایک چوہے کا بل (گھر) تھا ۔ طوقی سے اس چوہے کی دوستی تھی ، اس نے چوہے کو آواز دی چوہا اس وقت آرام کررہا تھا، کبوتروں کی آواز سن کر وہ بل سے باہر نکلا۔ اس نے طوقی اور اس کے دوستوں کو جال میں پھنسے ہوئے دیکھا تو وہ طوقی کے پاس گیا تاکہ اسے آزاد کرے طوقی نے کہا پیارے دوست پہلے میرے دوستوں کو آزاد کرو، اس کے بعد مجھے میں چاہتا ہوں کہ میرے دوست پہلے آزاد ہو جائیں ۔
چوہا اپنے دانتوں سے جال کو توڑتا گیا اور بالآخر تمام کبوتر آزاد ہوگئے، انہوں نے طوقی کا شکریہ ادا کیا اور پانی پی کر دوبارہ آزاد فضا میں خوش خوش نیلے آسمان میں اڑنے لگے۔
اب جب کبوتروں نے خود کو آزاد محسوس کیا تو سب نے وعدہ کیا کہ آئندہ دشمن کی چالوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے تیار رہیں گے اور کبھی بھی ایسی غلطی نہیں کریں گے جس کے وہ پہلے مرتکب ہو چکے ہیں ۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular