
ریاض : سعودی عرب نے یمن میں 8 سال سے جاری جنگ میں ناکامیوں کے بعد اسے ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔لبنان کے المیادین ٹی وی چینل نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان پچھلے سال موسم گرما سے جاری براہ راست بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے۔ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے یمن میں اپنی کٹھ پتلی صدارتی قیادت کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ وہ تباہ کن جنگ ختم کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ سعودیوں کا وژن ہے کہ صنعاء حکومت کے ساتھ مفاہمت کیلئے اقوام متحدہ کی ثالثی میں موجودہ ایک سالہ جنگ بندی کی تجدید کی جائے۔ ایک سعودی اومانی وفد ممکنہ طور پر اگلے ہفتے یمن کے دارالحکومت صنعا کا دورہ کرے گاتاکہ حوثی حکام کےساتھ مستقل جنگ بندی کا معاہدہ کیا جاسکے۔رپورٹ کے مطابق ریاض صنعاء کیطرف سے جنگ بندی کی منظوری کے بدلے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی، حدیدہ بندرگاہ کھولنے اور یمنی کرنسی کے مسائل حل کرنے میں مدد کا وعدہ کرےگا۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی جانب سے جنگ بندی کی تجدید جنگ اور یمن کے معاملات میں مداخلت کے خاتمے کے سعودی سرکاری اعلان سے مشروط ہوگی۔ واضح رہے کہ 2014 میں حوثیوں نے سعودی نواز یمن حکومت کا دھڑن تختہ کرکے دارلحکومت صنعا کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ جسے ختم کرنے کیلئے سعودی زیرقیادت اتحاد نے یمن پر حملوں کاآغاز کیا لیکن 8 سال میں سوائے انسانوں کو قتل کرنے کے کچھ حاصل نہ کرسکا۔


































