
Oplus_16908288
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
حالیہ دنوں میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یمن کے ساتھ بحری تجارتی لائن قائم کرے گا اور اس کے ذریعے حدیدہ بندرگاہ کا انفراسٹرکچر بھی دوبارہ تعمیر کیا جائے گا، ایسی خبریں سن کر صہیونیوں میں صدمے اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اسی مناسبت سے صنعا شپنگ بیورو نے چین سے الحدیدہ کی اس بندرگاہ تک براہ راست شپنگ لائن کھولنے کا اعلان کیا ہے، جو یمن کی انصاراللہ فورسز کے کنٹرول میں ہے۔ چینی کمپنی ZBM کے ذریعے چلائی جانے والی نئی لائن چنگ ڈاؤ سمیت تین بڑی چینی بندرگاہوں کو حدیدہ سے براہ راست جوڑے گی۔ شائع شدہ رپورٹ کے مطابق یہ شپنگ لائن قیمتوں کے لحاظ سے نسبتاً بہتر ہے: 20 فٹ کے کنٹینر کے لیے تقریباً $4,300 اور 40 فٹ کے کنٹینر کے لیے تقریباً $5,950 کی قیمت مناسب قیمت قرار دی جارہی ہے۔ چین سے یمن کی بندرگاہ حدیدہ تک کنٹینرز کی ترسیل کے لیے شپنگ سروسز فراہم کرنے کے علاوہ، چینی کمپنی ZBM لاجسٹک خدمات کا مکمل پیکج بھی پیش کررہی ہے۔
یہ سروس سامان کی نقل و حمل کے تمام مراحل کا احاطہ کرتی ہے، چین میں مینوفیکچرنگ پلانٹس سے نکلنے سے لے کر یمن میں آخری منزل پر ان لوڈنگ تک۔ آسان الفاظ میں یہ کمپنی سورس (فیکٹری) سے منزل (یمن) تک نقل و حمل کے پورے عمل کا انتظام کرتی ہے۔ اس میں کوآرڈینیشن، نقل و حمل اور اپنے صارفین کے لیے ترسیلطتک شامل ہے، تاکہ درمیانی کمپنیوں یا اضافی خدمات کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ رہے۔ اس اقدام کو یمنیوں کے لیے ایک اہم اقتصادی اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ یمن کو دنیا کی سب سے بڑی تجارتی طاقتوں میں سے ایک تک براہ راست رسائی فراہم کرتا ہے، نیز متبادل بندرگاہوں پر ان کا انحصار کم کرکے ناکہ بندی کو روکنے کی کوشش میں بھی موثر ہے۔ یہ سب کچھ اسرائیلی حکومت کے لیے ایک اہم اور غیر متوقع پیش رفت ہے۔
اسرائیلی حکومت نے حالیہ مہینوں میں حدیدہ کی بندرگاہ پر کئی بار حملہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ بندرگاہ یمنیوں کے لیے جدید ہتھیار حاصل کرنے کے لیے ایک اہم علاقہ ہے۔ صیہونیوں کے مطابق، اگر چین اس بندرگاہ کے لیے براہ راست تجارتی راستے کھولتا ہے، تو اسرائیل کو ایک ایسی حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا، جس سے جہاں یمن کو بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا، وہاں اسرائیل کے لیے کئی نئے چیلنج پیدا ہو جائیں گے۔ دوسرے لفظوں میں حدیدہ کی بندرگاہ اسرائیل کے لیے ایک فوجی ہدف ہے، کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ یہ بندرگاہ ہتھیاروں کی ترسیل اور منتقلی کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اب جبکہ چین جو کہ ایک عالمی طاقت ہے، اس تجارتی راستے کو کھول کر اس بندرگاہ کے ساتھ براہ راست تعاون کر رہا ہے اور اسے مؤثر طریقے سے اقتصادی اور بین الاقوامی جواز فراہم کر رہا ہے تو اس صورتحال میں اسرائیل کو اس بندرگاہ پر فوجی حملوں کو سیاسی اور سفارتی طور پر مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
دوسری طرف حدیدہ کی بندرگاہ کے ساتھ چین کا تعاون اسرائیل کو ایک بڑی اقتصادی اور سیاسی طاقت (چین) کے ساتھ بالواسطہ تصادم میں ڈال سکتا ہے۔ یہ صورتحال اسرائیل کے چین کے ساتھ سفارتی یا اقتصادی تعلقات کو متاثر کرسکتی ہے، کیونکہ صہیونی حکومت عالمی نظام کے کسی اہم ملک کے ساتھ تنازع میں نہیں پڑنا چاہتی۔ آخر میں، جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے، یہ شپنگ لائن یمنیوں کو چین تک براہ راست رسائی فراہم کرتی ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی تجارتی طاقتوں میں سے ایک ہے۔ اس سے یمنیوں کی آمدنی اور معاشی طاقت میں اضافہ ہوگا۔ صیہونی حکومت یمنیوں کو ایک دشمن سمجھتی ہے، اس کے لئے جہاں بھی ممکن ہوگا، وہ ان کے مفادات کے خلاف کام کرے گی۔ اسرائیل یمن کی اقتصادی مضبوطی کو اپنے لیے سنگین خطرہ سمجھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق چین کے اس فیصلے کی بہت سی وجوہات ہیں، لیکن بیجنگ کے اس فیصلے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ چینی رہنماء یمن اور صیہونی حکومت کے درمیان موجودہ کشیدگی اور تنازعات سے آگاہ ہونے کے باوجود تائیوان کے مسئلہ کی وجہ سے صیہونی حکومت کو ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ دنیا میں صیہونی حکومت سے بے مثال نفرت کے ساتھ ساتھ غزہ میں اس کے خونریز جرائم کی وجہ سے اس حکومت پر مغربی اور مشرقی ممالک کے سفارتی دباؤ کے باوجود دنیا میں چند ایسی حکومتیں ہیں، جن کے تل ابیب کے ساتھ تعلقات کی سطح پہلے سے بہتر ہوئی ہے، ان میں تائیوان کا نام بھی شامل ہے۔ مثال کے طور پر، Yedioth Ahronoth اخبار نے تائیوان کے بارے میں لکھا ہے۔ تائیوان مشرق میں اسرائیل کا دوست ہے۔
اسرائیل اور تائیوان کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا رشتہ ہے اور دونوں آمرانہ پڑوسیوں میں گھرے ہونے کے باوجود جمہوریت کا دفاع کرتے ہیں۔ صہیونی اخبار نے مزید لکھا ہے کہ اسرائیل کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ مشرق میں بھی اس کے دوست ہیں، جس کی ایک دلچسپ مثال تائیوان ہے۔ تائیوان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات خاص طور پر 7 اکتوبر کے بعد مضبوط ہوئے ہیں۔ تائیوان اور صیہونی حکومت کے درمیان دفاع اور فوجی سمیت بہت سے شعبوں میں تعاون کو وسعت ملی ہے، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جسے بیجنگ سرخ خطرے کو عبور کرنے کی علامت سمجھتا ہے۔ اس لیے تائیوان اور اسرائیلی حکومت کے درمیان تعاون اور تعلقات میں اضافے کے ساتھ چین بھی صیہونیوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے گا، جس میں یمن کے ساتھ براہ راست سمندری تجارتی راستہ قائم کرنے کا بیجنگ کا حالیہ فیصلہ بھی شامل ہے۔


































