
اس سوال کا بہترین جواب سورہ بقرہ کی آیت نمبر 21 میں موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’’اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔
یہ آیت خدا کے سامنے انسانوں کی ذمہ داری کا خلاصہ کرتی ہے۔ یعنی خدا کے نزدیک ہماری ذمہ داری اس کی عبادت اور بندگی کرنا ہے لیکن خدا کی عبادت صرف نماز پڑھنا اور دعا کرنا ہی نہیں ہے۔ آپ جب بھی خدا کی کوئی بھی بات سنیں تو اس کا مطلب ہے یہ کہ آپ نے اس کی بندگی کی ہے۔
جیسے جب آپ صبح اٹھتے ہیں اور گھر میں سب کو سلام کرتے ہیں، جب کسی کو کچھ سکھاتے ہیں اور جب کوئی علم سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ ان تمام چیزوں میں خدا کی عبادت میں ہی مصروف ہیں۔ حضرت محمد(ص) کے نزدیک اپنے ماں باپ کی طرف محبت سے دیکھنا بھی عبادت شمار ہوتی ہے لہذا آپ دیکھیں کہ اللہ کی عبادت کا دائرہ کا کتنا وسیع ہے۔
میری پیاری جان!
خدا کے سامنے ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ اس کی تمام باتیں سنیں۔ اس نے ہماری ذمہ داریوں کو بڑے اچھے انداز میں واضح کرکے بتایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک اس لیے بھیجا ہے تاکہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا پتا چل جائے۔
قرآن کا ہر صفحہ آپ کھولیں گے تو آپ کو بہت سی نصیحت آموز باتیں ملیں گی اور کئی اہم احکام بھی پتا چلیں گے۔
ہمارا فرض ہے کہ ان Good Advices اور احکامات پر توجہ دیں۔
اگر آپ سورہ حجرات کو پڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔
اگر آپ سورہ بقرہ پڑھیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ اس میں آیا ہے: ’’لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے بولو۔”
سورہ اعراف پڑھو گے تو دیکھو گے اللہ فرماتا ہے کہ کھاؤ پیو لیکن۔۔۔ کسی بھی چیز کو ضائع نہ کرو۔
جب آپ سورہ نور پڑھیں گے تو آپ کو یہ آیت نظر آئے گی کہ نماز پڑھیں، زکوٰۃ دیں اور رسول اللہ کی اطاعت کریں ۔
سورہ لقمان میں آپ دیکھیں گے کہ آیا ہے "لوگوں سے بے اعتنائی کے ساتھ منہ نہ پھیرو”
تو آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سب کی ذمہ داری کو واضح کر دیا ہے اور قیامت کے دن کوئی یہ بہانہ نہیں کر سکتا کہ مجھے پتا نہیں تھا کہ میری ذمہ داری کیا تھی۔


































