
تحریر: آسیہ بتول
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے مطالبات کی فہرست کو مسترد کر دیا ہے۔ اب پوری دنیا یہ سوچ رہی ہے کہ ایران نے ایسے کیا مطالبات پیش کر دیئے جس سے امریکہ پریشان ہو گیا اور ٹرمپ کے بقول انہیں ’’یہ فہرست پسند نہیں آئی‘‘۔ مختلف با اعتماد ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ امریکہ کو بھجوائے گئے ایرانی مطالبات میں کہا گیا ہے کہ تمام محاذوں پر جنگ ختم کی جائے اور تہران پر عائد پابندیاں فوری ہٹائی جائیں۔ ایرانی تجویز میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت پر لگائی گئی پابندیاں بھی ایک ماہ کے اندر اندر ختم کی جائیں اور ایران کا بحری محاصرہ ختم کیا جائے۔ ایرانی تجویز میں جنگ کے فوری خاتمے اور اس بات کی ضمانت کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ یہ گارنٹی بھی مانگی گئی ہے کہ ایران پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا۔ ایران نے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی ضرورت پر بھی سخت اصرار کیا ہے۔
تہران کے مطالبات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اگر امریکہ کچھ مخصوص وعدے کرے تو آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کے پاس رہے گا۔ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی امریکی تجویز پر ایرانی جواب کے خدوخال ظاہر کیے ہیں۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق تہران نے اپنی ایٹمی تنصیبات کو ختم کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے، البتہ وہ اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کو کم کرنے اور باقی ماندہ ذخیرہ کسی تیسرے ملک منتقل کرنے پر راضی ہو گیا ہے۔ اخبار کے مطابق ایران نے اگلے 30 دنوں میں ایٹمی مسائل پر بات چیت کی پیشکش کی ہے۔ تہران نے تجویز دی ہے کہ محاصرہ ختم کرنے کے بدلے جنگ ختم کی جائے اور آبنائے ہرمز کو مرحلہ وار کھولا جائے۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا کہ تہران نے امن کی تازہ ترین امریکی تجویز کے جواب میں اپنے ایٹمی پروگرام کے مسئلے کو نظر انداز کرتے ہوئے سارا زور خطے میں جاری جنگ کے خاتمے پر دیا ہے۔
پاکستانی ثالثوں کے ذریعے بھیجوائے گئے جوابی مسودے میں ایران کی جانب سے ایٹمی پروگرام جیسے حساس معاملات پر بات چیت سے قبل آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک پوسٹ کے مطابق حالیہ امریکی تجویز میں جنگ کے خاتمے، بین الاقوامی جہاز رانی کیلئے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کے ایٹمی پروگرام میں کٹوتی کا معاہدہ شامل تھا۔ وائٹ ہاؤس نے تاحال ایرانی جواب پر کوئی سرکاری تبصرہ نہیں کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ ایرانی ایٹمی پروگرام کا خاتمہ جنگ کے اہم مقاصد میں سے ایک ہے اور ٹرمپ ایران کی اس فہرست کو مسترد کر چکے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی صدر مسعود بزشکیان نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک دشمنوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا مطلب ہتھیار ڈالنا یا پسپائی اختیار کرنا نہیں، بلکہ اس کا مقصد ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ اور قومی مفادات کا بھرپور دفاع کرنا ہے۔
ادھر ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر تہران ایٹمی پروگرام میں کمی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر راضی نہیں ہوتا تو وہ امریکی فوجی طاقت استعمال کریں گے۔ امریکی صدر نے دھمکی دی کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں پراجیکٹ فریڈم کو دوبارہ فعال کیا جا سکتا ہے، جس کے تحت امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارے گی۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے اے بی سی نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ دوبارہ جنگ شروع کرنے سے پہلے سفارت کاری کو ہر ممکن موقع دے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز موجودہ تنازع کا سب سے حساس نکتہ ہے کیونکہ جنگ چھڑنے سے قبل دنیا کی تیل کی سپلائی کا پانچواں حصہ یہاں سے گزرتا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق ایران نے اس اسٹریٹجک بحری گزرگاہ سے غیر ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت کو کافی حد تک محدود کر دیا ہے۔
جوابی کارروائی کے طور پر امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ کر رکھا ہے اور جمعہ کے روز امریکی افواج نے ایرانی تیل کے ان دو ٹینکروں کو نشانہ بھی بنایا تھا جنہوں نے محاصرہ توڑنے کی کوشش کی تھی۔ پاسداران انقلاب کی بحریہ پہلے ہی متنبہ کر چکی ہے کہ ایرانی تیل بردار جہازوں یا تجارتی جہازوں پر کسی بھی حملے کا جواب خطے میں موجود امریکی اڈوں اور دشمن جہازوں پر بھاری حملے کی صورت میں دیا جائے گا۔ اب ٹرمپ چین کے دورے پر آ رہے ہیں۔ اس صورتحال میں ٹرمپ چاہتا تھا کہ ایران کو جنگ میں شکست دے کر ایک فاتح صدر کے طور پر بیجنگ پہنچیں، مگر ان کے ارادوں کو ایران نے ملیا میٹ کر دیا۔ اب ایک ہارا ہوا امریکی صدر چین کا دورہ کرنے آ رہا ہے، جبکہ آگے سے ایک ثالث صدر استقبال کرے گا، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس ملاقات میں صدر شی کو برتری حاصل ہوگی اور ایک شکست خوردہ صدر اپنے لئے تجارت کی درخواست کرے گا۔


































