
خرطوم: سوڈان میں متحارب دھڑے مذاکرات کیلئے آمادہ ہوگئے۔ سوڈان میں اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے وولکر پرتھیس نے کہا ہے کہ سوڈان میں متحارب فریقین مذاکرات کے لیے زیادہ تیار ہیں اور انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ دو ہفتے قبل شروع ہونے والا تنازع تادیر جاری نہیں رہ سکتا۔فریقین نے مذاکرات کے لیے نمائندے نامزد کیے ہیں جو سعودی عرب کے شہر جدہ یا جنوبی سوڈان کے شہرجبہ میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت کریں گے۔مذاکرات کے لیے کوئی ٹائم لائن طے نہیں کی گئی ہے۔ سوڈانی فوج اور نیم فوجی سریع الحرکت فورسزکے درمیان اقتدار کی طویل کشمکش کے بعد 15 اپریل کولڑائی چھڑ گئی تھی۔اس میں اب تک سینکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں ۔ پرتھیس نے کہا کہ انھوں نے سلامتی کونسل کو حال ہی میں ایک بریفنگ میں بتایا تھا کہ دونوں فریقوں کا خیال ہے کہ وہ اس مسلح تنازع میں جیت سکتے ہیں لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ رویے تبدیل ہو رہے ہیں۔ وہ دونوں سمجھتے ہیں کہ وہ جیت جائیں گے لیکن وہ دونوں مذاکرات کے لیے زیادہ کھلے ہیں، پہلے ہفتے میں ان کی گفتگو میں مذاکرات کا لفظ موجود نہیں تھا۔ پرتھیس نے کہا کہ اگرچہ فریقین نے یہ بیانات دیے تھے کہ دوسرے فریق کو’’ہتھیارڈالنا یا مرنا پڑے گا‘‘ لیکن اب وہ یہ کَہ رہے ہیں:’’ٹھیک ہے ہم کسی قسم کی بات چیت کو قبول کرنے کو تیار ہیں۔انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ یہ جنگ جاری نہیں رہ سکتی۔


































