
تل ابيب: مسجد اقصیٰ کی بےحرمتی پر صیہونی حکومت ہل گئی اور ملک میں ایک مرتبہ پھر انتخابات کا میدان سجنے کا امکان بڑھ گیا ہے بائیں بازو کی جماعت میرٹس سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پارلیمنٹ غیدہ ریناوی نے مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر اسرائیلی فورسز کے تشدد اور خاتون صحافی شیرین ابوعاقلہ کی بہیمانہ موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا۔خاتون رکن پارلیمنٹ نے وزیراعظم نفتالی بیننٹ اور وزیر خارجہ یائر لیپڈ کو بھیجے گئے خط میں اپنے استعفیٰ اور مسلمانوں کیخلاف متعصبانہ کارروائیوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ان کے مستعفیٰ ہونے سے وزیراعظم نفتالی بیننٹ کی حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت کھوچکی ہے۔غیدہ ریناوی کے پارلیمانی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد اسرائیل کی موجودہ اتحادی حکومت کل 120 میں سے صرف 59 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپڈ نے کنیسیٹ کی رکن غیدہ ریناوی کو رواں برس فروری میں شنگائی کیلئے اسرائیل کی پہلی خاتون قونصل جنرل تعینات کیا تھا جو خواتین کیلئے ایک اہم سنگ میل تھا، نیتن یاہو کی سربراہی میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی تجویز پیش کی ہے، جس پر آئندہ بدھ کو رائے شماری کی جائے گی۔
اس ووٹنگ کے دوران اگر 61 ووٹ اسمبلی تحلیل کرنے کے حق میں آگئے تو نفتالی بیننٹ وزارت عظمیٰ سے محروم ہوجائے گیں اور قوی امکان ہے کہ رواں برس ستمبر میں اسرائیل میں عام انتخابات کا انعقاد ہوجائے۔


































