
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے قیادت کے خلاف درج مقدمات اور کارکنان کی گرفتاریوں کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔ انسانی حقوق کی سابق وزیر ڈاکٹر شیری مزاری نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کو ایک دستاویز کی شکل دیدی ہے۔ تین حصوں پر مشتمل دستاویزات کے پہلے سیکشن میں پی ٹی آئی اور اتحادیوں کا سیاسی استحصال کا ذکر کیا گیا ہے جس میں زمان پارک آپریشن بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کا مخالفین کے ساتھ رویہ اور عمران خان پر ہونے والے قاتلانہ حملے اور اُن کی سیاسی پابندیوں کا ذکر ہے۔ دوسرے حصے میں آزادی اظہار رائے کی پابندیوں اور صحافیوں کی زباں بندی کے واقعات کو اجاگر کیا گیا ہے جبکہ مخالفین کو میڈیا کے ذریعے نشانہ بنانے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے حصے میں ہم نے آڈیو اور ویڈیو لیکس کے معاملے کو بھی شامل کیا ہے کیونکہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ وزیراعظم کی ٹیلی فون لائن کس نے ریکارڈ کیں اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے جبکہ یہ قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ شیری مزاری نے کہا کہ ہم نے اس دستاویز میں آئینی آرٹیکل کا تذکرہ بھی کیا ہے تاکہ عالمی سطح پر معلوم ہوسکے کہ حکومت کس طرح ملکی قوانین اور انسانی حقوق اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’آرٹیکل 13 کے تحت کسی بھی ایک کیس کا مقدمہ دو بار درج نہیں ہوسکتا مگر حکومت ہمارے خلاف یہ حربہ استعمال کررہی ہے‘۔ شیری مزاری نے کہا کہ ہم نے اس کے اینکزر بی میں اُن 7 انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا ہے جس میں پاکستان عالمی دنیا کا شراکت دار ہے۔


































