
دوحہ: قطری میڈیا گروپ الجزیرہ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر حملوں میں ایسے ممنوع ہتھیار استعمال کئے ہیں جس سے شہدا کے جسم بخارات بن کر تحلیل ہوگئے۔
الجزیرہ عربی کی تحقیق کے مطابق غزہ میں جنگ کے آغاز سے اب تک دو ہزار آٹھ سو بیالیس فلسطینی ایسے ہیں جن کے جسم مکمل طور پر تحلیل ہو گئے اور صرف خون کے نشانات یا جسمانی ذرات باقی رہ گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد کوئی اندازہ نہیں بلکہ فرانزک جانچ کے بعد مرتب کی گئی حتمی فہرست ہے۔
سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ حملے کے مقام پر طریقۂ اخراج اختیار کیا جاتا ہے، جس میں گھر کے مکینوں کی تعداد کو ملنے والی لاشوں سے ملایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کسی گھر میں پانچ افراد موجود ہوں اور صرف تین مکمل لاشیں ملیں تو باقی دو کو تحلیل شدہ شمار کیا جاتا ہے۔ ماہرین اور عینی شاہدین نے اسے ممنوعہ تھرمل اور تھرمو بیریک ہتھیاروں کے استعمال سے جوڑا ہے جو انتہائی درجہ حرارت پیدا کرکے انسانی جسم کو سیکنڈوں میں راکھ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


































