
واشنگٹن : ایران جنگ نے امریکی صدر اور پوپ لیو کو آمنے سامنے کھڑا کردیا۔ ٹرمپ نے پوپ لیو کی توہین پر ان سے معافی مانگنے سے انکار کردیا ہے۔ پوپ نے امریکی صدر کی ایران کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کی تھی اور کہاتھا کہ اب جنگ نہیں مذاکرات کا وقت ہے۔ یسوع امن کے بادشاہ ہیں انہیں جنگ کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ جس پر ٹرمپ نے کہا کہ پوپ جرائم اور دیگر چیزوں کے حوالے سے بہت کمزور ہیں۔ پوپ نے ٹرمپ کے ردعمل پر واضح کیا کہ وہ کسی دباؤ یا خوف کے بغیر اپنے مذہبی اور اخلاقی مؤقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ انجیل کے پیغام کو کھل کر بیان کرتے رہیں گے کیونکہ یہ ان کا مذہبی فریضہ ہے اور چرچ کی بنیادی ذمہ داری بھی یہی ہے کہ وہ امن، انصاف اور انسانی وقار کے حق میں آواز بلند کرے۔ ٹرمپ نے پوپ کے جواب پر ایک بار پر پھر کہا کہ وہ محض پوپ کی تنقید کا جواب دے رہے ہیں۔ ان کے پاس معافی مانگنے کی کوئی وجہ نہیں۔
دوسری جانب اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ پوپ لیو پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید ناقابل قبول ہے۔ پوپ کیتھولک چرچ کے سربراہ ہیں اور یہ درست اور مناسب ہے کہ وہ امن کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہر قسم کی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔


































