
واشنگٹن : ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری معاہدہ کر رہی ہے جس میں روایتی عدم پھیلاؤ کی سخت شرائط شامل نہیں۔ معاہدے میں یورینیم افزودگی کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے قانون سازوں کو آگاہ کیا ہے کہ مجوزہ سول نیوکلیئر معاہدہ سعودی عرب پر وہ پابندیاں عائد نہیں کرے گا جو عموماً جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے شامل کی جاتی ہیں۔ دستاویز کی زبان میں ایسے اضافی حفاظتی اور توثیقی اقدامات کا ذکر ہے جو حساس شعبوں، بشمول افزودگی اور ری پروسیسنگ، میں تعاون کی اجازت دیتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر معاہدے میں مستقبل میں یورینیم افزودگی پر واضح پابندی شامل نہ ہوئی تو یہ خطے کے لیے ایف پینتیس طیاروں کے ممکنہ سودے سے بھی زیادہ دور رس اثرات رکھ سکتا ہے۔ ماضی میں امریکا نے متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک کے ساتھ تعاون کو اس شرط سے مشروط کیا تھا کہ وہ یورینیم افزودہ نہیں کریں گے اور استعمال شدہ ایندھن کی ری پروسیسنگ نہیں کریں گے.


































