
ایرانی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف اور خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ بیانات اور بار بار دھمکیاں دی جارہی ہیں اور اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے جارحیت، عالمی سطح پر بدامنی اور بحری قزاقی کو جائز ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ زمینی حقائق پر مبنی ہونے کے بجائے محض داخلی تشہیر کا ذریعہ ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کے بیانات ایران کے خلاف امریکی جارحیت میں اس کی تزویراتی ناکامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ امریکی فوج کی بے بسی کے پیش نظر بے بنیاد دعوؤں اور دھمکیوں کی تکرار طاقت کی علامت نہیں بلکہ امریکہ کی تزویراتی بے بسی کو ظاہر کرتی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران ہمیشہ خطے میں بالخصوص آزاد اور بین الاقوامی تجارت کے لیے امن و سلامتی کا مرکز رہا ہے، جبکہ امریکہ مغربی ایشیاء میں اپنی غیر قانونی، ناجائز اور جارحانہ موجودگی کے ذریعے خطے میں خطرے، بدامنی اور عدم استحکام کا باعث ہے۔ ایران کے خلاف مسلسل جارحانہ اقدامات اور بحری قزاقی میں ہونے والی ناکامیوں کی تلافی کے لیے امریکہ نے عالمی معیشت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی صدر کی لفظی دھمکیاں طاقت کے توازن کے حساب کتاب میں کوئی تبدیلی نہیں لا سکتیں اور نہ ہی عالمی نظام میں امریکہ کے گرتے ہوئے مقام اور ایران و مزاحمتی محاذ کے خلاف جنگ میں امریکہ کی شرمناک ناکامیوں کی تلافی کر سکتی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان شاء اللہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرِ محترم، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بہادر ایرانی قوم، اس کی فاتح مسلح افواج اور مضبوط و ناقابلِ شکست ایران کا پیغام دنیا تک پہنچائیں گے۔

































