
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ اگرچہ امریکہ میرینز اور زمینی فوج خطے میں بھیج رہا ہے، لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ کے طویل ہونے اور امریکی فوجیوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے خوف سے جلد از جلد ایران کے ساتھ جاری جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے کہا ہے کہ وہ 4 سے 6 ہفتوں کے اس منصوبہ جاتی ٹائم فریم پر قائم رہیں جو انہوں نے ابتدا میں جنگ ختم کرنے کے لیے طے کیا تھا، ٹرمپ کا چین کا دورہ مئی کے وسط تک مؤخر کرنا بھی اسی اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے جنگ اس وقت تک ختم ہو جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے آئندہ فیصلوں کا اندازہ لگانا مشکل ہے، مگر وہ سمجھتے ہیں کہ داخلی مسائل ،جیسے وسط مدتی انتخابات، امیگریشن پالیسی، اور ووٹنگ قوانین کو مزید سخت بنانا زیادہ اہم ہیں، اور طویل جنگ ان پر کام کرنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
اس دوران پینٹاگون نے ہزاروں امریکی فوجی خطے میں تعینات کر دیے ہیں، اور سینٹکام کے مطابق اب تک 13 امریکی فوجی زخمی جبکہ تقریباً 300 اہلکار متاثر ہوئے ہیں۔ ٹرمپ زمینی حملے کے حق میں تو ہے، مگر اس کے ممکنہ طور پر جنگ کو طول دینے اور امریکی جانی نقصان بڑھنے کے خدشے کے باعث ہچکچا رہا ہے، کیونکہ یہ صورتحال ریپبلکنز کی انتخابی پوزیشن کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ خبر میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران کے خلاف مشترکہ فوجی حملہ (28 فروری 2026) کو اُس وقت شروع ہوا جب ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری تھے۔ ایران نے اس حملے کو خطے کی سلامتی، معیشت اور آبنائے ہرمز میں جہازرانی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے بحری جہازوں کے لیے بند ہے، جبکہ دیگر تمام بحری جہاز ایران کی اجازت سے گزر سکتے ہیں۔


































