
*⭕️ خوبصورت تحریر⭕️*
*❇️ امیرالمومنین امام علیؑ نہج البلاغہ کے ۳۱ نامے میں اپنے بیٹے امام مجتبیٰؑ سے فرماتے ہیں:*
*”بےشک جوان کا دل خالی زمین کی طرح ہے، جو بیچ اس میں بویا جائے اسے قبول کرتا ہے۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ دل سخت اور ذہن (دوسری چیزوں میں) مصروف ہوجائے، تمہیں ادب سکھانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے تاکہ وہ پختہ عزم کے ساتھ اپنے کاموں کو انجام دے۔”*
🤔 تعجب کا مقام ہے کہ بعض والدین بچے کو اسکول بھیجنے سے پہلے ٹیوشن بھیجتے ہیں کہ اسکول جانے کے لئے ذہنی طور پر آمادہ ہوجائے اور پڑھائی میں آسانی ہو۔
👈 لیکن تیار نہیں کہ بالغ ہونے سے پہلے اسے نماز سے آشنا کریں۔
*❇️ پرمود بترا، ایک مغربی سالکولوجسٹ کاکہناہے:*
_دنیا کی اکثر آتش سوزی (آگ) لگنےکو ایک کپ پانی سے بھجایا جاسکتا ہے اگر بروقت یہ کام کیا جائے۔_
*🔰حکایت🔰*
✅ "ایک بہت قدرتمند مرد نے ایک کانٹے دار پودا راستے میں اگایا۔
لوگ جب بھی وہاں سے گزرتے اسے سرزنش کرتے اور کہتے کہ یہ یہاں سے ہٹاو۔ لیکن وہ کسی کی بات نہ سنتا۔ وہ کانٹے دار پودا ہر روز اپنی جڑیں مضبوط کرتا گيا جبکہ وہ مرد دن بہ دن کمزور اور بوڑھا ہوتے گیا۔ سرانجام آجکل کرتے کرتے کانٹے دار درخت مضبوط جبکہ وہ مرد بوڑھا اور اسے اکھاڑنے کے لئے ناتوان۔”
✨ ہم والدین کا قصہ بھی تربیت کے حوالے سے کچھ اس طرح کاہے۔
⚠️ لہٰذا آخری کلام یہ ہے کہ ہمیں چاہیے بچوں اور نوجوانوں کی شخصیت کی انعطاف پذیری (flexibility) کو استعمال کریں اور اس سے پہلے کہ اس کی شخصیت پکی اور مضبوط ہوجائے، اس کی صحیح تربیت، (بالخصوص نماز )کے لیے قدم اٹھائیں۔


































