
اسلام آباد: رانا ثنااللہ نے بتایا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں آرمی چیف نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کے معاملے پر ملے جلے پیغامات نہیں دینے چاہییں۔ بیانیے میں وضاحت ہونی چاہیے کہ کسی دہشت گرد سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ آرمی چیف کی وضاحت مطالبہ کرتی ہے کہ دہشت گرد تنظیموں سے مذاکرات نہیں کرنے چاہیے۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ نے بتایا کہ دہشت گرد افغانستان سے آتے ہیں، کارروائی کر کے چلے جاتے ہیں، پاکستان نے افغان حکومت کے سامنے ثبوت رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئی حملہ آور ہو تو بین الاقوامی قوانین اجازت دیتے ہیں کہ اپنے دفاع میں اس کو روک سکتے ہیں۔ افغانستان نے وعدہ کیا تھا کہ اس کی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، افغان حکومت کو کہا جائے گا کہ وہ وعدہ نبھائیں۔


































