Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

فرانسیسی سامراج کا انخلاء

تحریر: اتوسا دیناریان

نائجر میں سیاسی تبدیلیوں اور اس ملک میں فوجی کونسل کی تاثیر نیز فرانسیسی فوجی دستوں کے انخلا کی ضرورت پر زور دینے کے کئی ماہ بعد، بالآخر فرانسیسی فوجیوں کا آخری گروپ نائجر سے نکل گیا ہے۔ فرانسیسی فوجیوں کے آخری گروپ کی روانگی کل ایک تقریب 110 نیامی ایئر بیس میں ہوئی، جس میں نائجر کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں نے شرکت کی۔ نیامی سے فرانسیسی فوجیوں کے اس گروپ کی روانگی کے ساتھ ہی نائجر میں فرانسیسی فوج کی موجودگی مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ نائجر میں فرانسیسی فوجی موجودگی کا خاتمہ گویا نائجیریا کی فتح مکمل ہونے کا اعلان ہے۔ نائجر سے فرانسیسی افواج کا انخلا اس وقت ہوا ہے، جب فرانسیسی افواج کئی دہائیوں سے بالواسطہ اور بالواسطہ طور پر مختلف افریقی ممالک بالخصوص افریقہ کے ساحلی ممالک میں موجود ہیں۔

فرانس، جو گذشتہ دہائیوں میں مختلف افریقی ممالک کی آزادی کی تحریکوں کے بعد اس براعظم کے کئی ممالک میں اپنی سرکاری موجودگی ختم کرنے پر مجبور ہوا تھا، اس نے حالیہ برسوں میں بہت سے افریقی ممالک کے لیے ایک نئی نوآبادیات کی شکل میں اور ایک مختلف انداز اختیار کرکے یہاں واپس آگیا تھا۔ دہشت گردی سے لڑنا اور افریقی ممالک کو ترقی اور جدید بنانے میں مدد کرنا فرانس کی افریقی ممالک میں واپسی کی وجوہات قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہ بہانہ تھا۔ اقتصادی اور تجارتی نقطہ نظر سے، فرانسیسی کمپنیاں کئی سالوں سے افریقی ممالک میں اقتصادی منصوبوں اور معدنی کانوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ نیز افریقہ میں ان میں سے بہت سے منصوبے طویل مدتی قرضوں کی ادائیگی کے ذریعے نافذ کیے گئے ہیں۔

اگرچہ ان اقدامات کی ظاہری شکل کو اقتصادی تعاون کہا جاتا تھا، لیکن درحقیقت فرانس اس ملک میں موجود معدنی کانوں اور کان کنی کی کئی کمپنیوں کے حصص کا مالک ہے اور اس نے اس ملک کی معیشت کو بالواسطہ طور پر اپنے زہر اثر کیا ہوا ہے۔ نائجر کو فوائد فراہم کرنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ وہ فرانس کو درکار یورینیم کی کھپت کا 20 فیصد سے زیادہ نائجر سے حاصل کرسکے۔ دوسری جانب گذشتہ دہائی کے دوران فرانسیسی فوجی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر اس براعظم کے مختلف ممالک بالخصوص مالی اور نائجر میں تعینات ہیں۔ ایک طویل عرصے سے پیرس کے دعوؤں کے باوجود ان قوتوں نے نہ صرف دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ درحقیقت افریقی ممالک میں عدم اطمینان کا بھی باعث بنی ہیں۔

فرانسیسی فوج کی کارکردگی بشمول شہریوں کو نشانہ بنانا اور ان ممالک کے شہریوں کو قتل کرنے (جس کا ثبوت فرانسیسی اڈوں کے قریب اجتماعی قبروں کی دریافت سے ملتا ہے) کی وجہ سے ان ممالک کے عوام اپنے ممالک سے فرانسیسی فوجیوں کا انخلاء چاہتے ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ مہینوں کے دوران مالی، برکینا فاسو اور نائجر میں ہونے والی بغاوتوں کو ان ممالک کے عوام نے نہ صرف خوش آمدید کہا بلکہ ان ممالک کے عوام نے اپنے ممالک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کا خیر مقدم بھی کیا ہے۔ بغاوتوں سے فرانس کو اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی امید تھی، لیکن عملی طور پر سیاسی تبدیلیوں اور فوج کے قیام کی وجہ سے وہ ان ممالک میں اپنی موجودگی کو برقرار نہ رکھ سکا۔ ان ممالک میں برسر اقتدار آنے والی نئی حکومتوں کا پہلا مطالبہ فرانسیسی فوجوں کا انخلا تھا۔

حالیہ مہینوں میں نائجر کی فوجی حکومت اور اس ملک کے عوام نے اس ملک کی علاقائی سالمیت اور سیاسی، فوجی اور اقتصادی آزادی کو برقرار رکھنے پر زور دیا ہے اور فوجی کونسل کے عہدیداروں نے باضابطہ طور پر فرانسیسیوں سے کہا ہے کہ وہ اس ملک سے نکل جائیں۔ حالیہ مہینوں میں مالی، برکینا فاسو اور اب نائجر کے ممالک میں نئی ​​حکومتوں کے دباؤ کی وجہ سے فرانسیسی حکومت کو ساحلی علاقے کے ممالک سے اپنی تمام فوجی افواج کو واپس بلانا پڑا۔

نائیجر کی فوجی کونسل نے ملک سے فرانسیسی فوجیوں کے مکمل انخلاء کے ردعمل میں اس واقعہ کو نائجر کے عوام کے لیے ایک "نئے دور” کا آغاز قرار دیا۔ اس کونسل نے ایکس سوشل نیٹ ورک پر ایک پوسٹ شائع کی اور لکھا: نائیجر اب بھی اپنے پورے قد کے ساتھ کھڑا ہے اور اب ہماری سرزمین کی سلامتی کا انحصار غیر ملکیوں کی موجودگی پر منحصر نہیں ہوگا۔ ہم اپنی قومی، تزویراتی اور عسکری صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular