
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
جنگ کی آگ عربوں کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔ عربوں کا خیال تھا کہ مکمل یا ضرورت سے زیادہ خراج ادا کرنے کے بعد جنگ سے محفوظ رہیں گے۔ کچھ کا خیال تھا کہ مسئلے کا حل روشن خیالی میں پوشیدہ ہے، اس لیے دن رات ایک کرکے بھیانک قسم کی روشن خیالی کو جبراً نافذ کیا گیا۔ کچھ یہ سوچ کر محفوظ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم نے تو غاصبوں کو تسلیم کر لیا ہے، اس لیے ہم تک یہ آگ نہیں پہنچے گی۔ ان سب کا متفقہ خیال تھا کہ بڑی تعداد میں امریکہ کو اڈے دے دو، اس سے امریکہ ہر طرح کے حملے سے آپ کی حفاظت کرے گا، اس لیے اربوں ڈالر کے بیس بنا کر امریکہ کے حوالے کیے گئے۔ ان سب اقدامات کا مقصد صرف اور صرف یہ تھا کہ خلیجی ممالک پر مسلط خاندانی بادشاہتیں ہمیشہ کے لیے محفوظ رہیں۔عوام مرتی ہے تو مر جائے، بس ہمارے اقتدار کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہیئے۔
ان کی آنکھ تو شائد ابھی بھی مکمل نہیں کھلی، یہ ابھی تک حیرت میں ہیں کہ ہمارے ساتھ کیا ہاتھ ہوگیا ہے۔؟ یہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ جنگ ان کے دروازے تک پہنچ چکی ہے۔ اس نکتے پر بہت کم بات ہوئی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بار اسرائیلی جہاز سعودی عرب کی طرف سے آئے اور کہا جا رہا ہے کہ وہیں سے حملے کیے گئے۔ یعنی سعودی عرب کی فضائی حدود کو پامال کیا گیا ہے، جو اتنا آگے آکر حملے کر گئے، ان کے لیے سعودی عرب کی کیا حیثیت تھی۔؟ واقعہ تو ہو جاتا ہے، اس کے بعد ممالک کا ردعمل خطوں کا مستقبل طے کرتا ہے۔ آپ خلیجی ممالک کا ردعمل چیک کریں۔ ہنگامی اجلاس سے قطر کے امیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گذشتہ دو برسوں میں مشرقِ وسطیٰ کی سمت یا نقشہ بدل دیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اپنی مرضی سے کسی بھی جگہ اور کسی بھی وقت مداخلت کرسکتا ہے۔ دراصل وہ یہ خواب دیکھ رہا ہے کہ پورا عرب خطہ اسرائیل کے اثر و رسوخ میں آجائے۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک خطرناک وہم ہے۔ جی اسرائیل تو یہی کر رہا ہے، آپ سمجھ رہے تھے کہ اسرائیلی وزیراعظم صرف فلسطین کی بات کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق متحدہ عرب امارات نے قطر کو واضح پیغام بھیجا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کے کسی بھی فوجی جواب کی مخالفت کرتا ہے۔ جی ٹھیک ہوگیا، یعنی اندر سے اسرائیل کی وکالت کرنے والے خود خلیجی ممالک ہیں۔ پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کھل کر کہا کہ اسرائیل کا بازوؤں مروڑ کر بزور طاقت روکنا لازم ہوچکا ہے۔ میزبانوں کی بزدلی دیکھئے کہ پاکستان کا موقف اعلامیہ میں شامل ہی نہیں کیا گیا۔
پاکستان نے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم روکنے کے لیے عرب اسلامک مشترکہ ٹاسک فورس کی تجویز دی۔ پاکستان نے اسرائیل کو جنگی جرائم پر کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز کی حمایت کی۔ اجلاس سے پہلے اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ اگر آج کے اجلاس میں روڈ میپ نہ دیا گیا تو یہ افسوسناک ہوگا۔ اس کے مقابل اسرائیل امریکہ کی یکسوئی کو دیکھیے، جنگی مجرم نیتن یاہو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ہمراہ مسجد اقصیٰ کے نیچے بنائی گئی سرنگ میں جا پہنچا۔ ہاتھوں میں ہتھوڑے اٹھا کر اس سرنگ کی کھدائی کو جاری رکھنے کا اعلان کیا، تاکہ جلد سے جلد مسجد اقصیٰ کو نیچے سے اتنا کھوکھلا کر دیا جائے کہ خدانخواستہ وہ خود منہدم ہو جائے، پھر اسرائیل کو یہاں یہودی تھرڈ ٹیمپل بنانے کا موقع مل سکے۔ تاریخ میں پہلی بار 50 امریکی ریاستوں کے اراکین پارلیمنٹ اسرائیل پہنچ گئے، یہ لوگ اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے اور حمایت کے لیے آئے ہیں۔
اسلامی سربراہی اجلاس سے بڑی امیدیں وابستہ کر لی گئیں تھیں، اس کا اعلامیہ دیکھتے ہیں۔ اجلاس نے اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کو قطر کی خود مختاری پر کھلا حملہ اور عالمی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور کہا کہ یہ اقدام غزہ میں جنگ بندی کے لیے جاری ثالثی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اعلامیے میں قطر کے ہر ممکنہ جوابی اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان، اقوام متحدہ میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی اپیل کی گئی۔ اجلاس نے اسرائیلی دعویٰ مسترد کرتے ہوئے محاصرے اور بھوک کو بطور ہتھیار جنگی جرم قرار دیا اور فلسطینی علاقوں کے انضمام یا جبری ہجرت کی مذمت کی۔ اس کے ساتھ ساتھ جنرل اسمبلی کے "اعلانِ نیویارک”دو ریاستی حل اور مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی و تباہ کن ہتھیاروں سے پاک بنانے کی توثیق کی گئی۔
اس اعلامیے کو غور سے دیکھیں اور سوچیں، کیا یہ اتنے سربراہان ریاست کا وقت ضائع کرنے کی محفل نہیں تھی۔؟ کیا ان تمام ممالک نے پہلے ہی تقریباً اسی سے ملتے جلتے الفاظ میں اسرائیل کی مذمت نہیں کر دی تھی۔؟ سوشل میڈیا پر بہت سے لوگ پرامید تھے کہ خلیجی ممالک اسرائیل کے خلاف کسی اقدام کا اعلان کریں گے، مگر سب کو مایوسی ہوئی ہے۔ اب لوگ اس منافقانہ رویئے کے خلاف لکھ رہے ہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے لکھا: قطر پر اسرائیلی حملے کے ردِعمل میں ہنگامی طور پر منعقد کی جانیوالی دوحہ اسلامی سربراہی کانفرنس کا اعلامیہ اور نتیجہ مایوس کُن تھا۔ حد یہ ہے کہ امریکی وزیر خاجہ قطر پہنچتے ہیں اور وہ امریکہ قطر دفاعی ڈیل کو جلد فائنل کرنے کی خوشخبری سناتے ہیں۔ خلیجی حکمرانوں کی حالت دیکھ کر میر کا یہ شعر یاد آتا ہے:
میرؔ کیا سادے ہیں، بیمار ہوئے جس کے سبب
اُسی عطّار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں


































