
دمشق : شام کے صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ علاقے کے خلاف جنگ درحقیقت ایک نظریاتی و عقائدی جنگ ہے۔ دمشق میں موریتانیا کے پارلیمانی وفد سے ملاقات میں بشار الاسد نے کہا کہ علاقے کے خلاف جنگ بنیادی طور پر ایک فکری اور نظریاتی جنگ ہے جو عسکری جنگ سے بھی زیادہ خطرناک ہے اور زیادہ بااثر ہے۔ موریتانیا کے پارلیمانی وفد نے شام کے موقف اور اس کی جانب سے عرب مسائل کی پابندی کو سراہا اور تاکید کے ساتھ کہا کہ موریتانیا کے عوام کے نزدیک شام خاص اہمیت کا حامل ہے اور وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامی عوام کی ہمیشہ حمایت کرتے رہے ہیں۔ موریتانیا کے وفد نے اس سے قبل شام کے وزیرخارجہ فیصل مقداد سے ملاقات کی تھی اس ملاقات میں فیصل مقداد نے شام کے خلاف دہشتگردانہ جنگ میں موریتانیہ کے درخشاں موقف کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ اس جنگ کا مقصد شام کو کمزور کرنا، استقامتی محاذ، مسئلہ فلسطین کو تباہ و برباد کرنا اور مغرب واسرائیل کے مفادات کا حصول تھا ۔


































