
اسلام : تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کو آزادانہ فیصلے کرنے والی حکومت کی عادت نہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی ہمارے لیے ہونی چاہیے۔ ہمیں کسی اور کیلئے اپنے ملک کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ روس سے سستے تیل کے سمجھوتے پر امریکا ناراض ہوا۔روس سے ہمیں 30 فیصد کم قیمت پر تیل مل رہا تھا۔ ہمارے ہاتھ باندھ کر حکومت گرائی گئی، رات بارہ بجے عدالتیں کھلیں، ہمیں ہٹا کر کرپٹ ترین لوگوں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا۔ ایرانی وزیراعظم مصدق کی حکومت گرانے کیلئے سب سے پہلے میڈیا پر پیسہ خرچ کیا گیا اوور سیز پاکستانیوں سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا پھر سے اڈے مانگ رہا تھا، امریکی سازش کا پاکستان میں بیٹھے میر صادق اور میر جعفر نے ساتھ دیا ۔ میں امریکہ سمیت کبھی کسی ملک کےخلاف نہیں رہا، ڈونلڈ ٹرمپ سے اچھے تعلقات تھے، 15 سال میں نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کی مخالفت کی، اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نےاٹھایا۔ میں نے افغانستان میں فوج کشی کی مخالفت کی، نائن الیون سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تھا،امریکا نے دھمکی دی اور پاکستان اس جنگ میں شامل ہوگیا۔ امریکا کے کہنے پر قبائلی علاقے میں فوج بھجوائی گئی۔ قبائلیوں کو کہا گیا کہ سوویت یونین کے خلاف جہاد کریں۔ جب امریکا افغانستان میں بیٹھ گیا تو پھرکہا گیا کہ ان کے خلاف لڑنا دہشت گردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت آنے سے ہر چیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا لیکن اب کوئی مائیک پکڑ نہیں پوچھتا کہ مہنگائی ہے۔


































