
File photo: A F/A-18E Super Hornet fighter jet is catapulted off the flight deck of the USS Dwight D. Eisenhower (CVN 69) aircraft carrier in Southern Red Sea, Middle East, February 13, 2024. REUTERS/Hamad I Mohammed/File Photo
واشنگٹن : امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دو ہزار تین کے بعد سب سے وسیع فضائی طاقت جمع کر لی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدہ کر لے۔ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں جدید لڑاکا طیاروں، معاون ہوائی بیڑے، اور حملہ آور طیارہ بردار جہازوں کا سب سے بڑا مجموعہ جمع کیا ہے۔ ایف تھرٹی فائیو۔ ایف بائیس اور دیگر لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اڈوں پر پہنچائے گئے ہیں، جبکہ دو طاقتور طیارہ بردار جہاز بھی بھیجے گئے ہیں۔ اس فوجی تیاری کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ فضائی یا محدود زمینی آپریشن کے لیے متعدد ہفتوں تک جاری رہنے والی مہم چلانے کی صلاحیت رکھنا ہے۔ امریکی اسٹراٹیجک بیڑے کی یہ تعیناتی ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی تہران کے جوہری پروگرام کے سفارتی حل کے خواہاں ہیں تاہم ایران کے خلاف کارروائی کے لیے متعدد آپشنز موجود ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ممکنہ حملے کے آپشنز پر بات چیت کی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔


































