Sun Oct 11, 2026

یمن کے انتقامی حملوں کا خوف: متعدد ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل یا منسوخ کر دیں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ، صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیے ریاض ایئرپورٹ پر انصار اللہ کا حملہ، 12 افراد ہلاک، 306 زخمی، پروازیں منسوخ ٹرمپ نوبیل انعام نہ ملنے کی رسوائی پر شدید برہم، انعام کمیٹی اور ناروے پر تنقید خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائی آبنائے ہرمز تک محدود نہیں رہے گی، پاسدارانِ انقلاب آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع

روزانہ کی خبریں

امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں 2003 کے بعد سب سے بڑی فضائی طاقت جمع کرلی

File photo: A F/A-18E Super Hornet fighter jet is catapulted off the flight deck of the USS Dwight D. Eisenhower (CVN 69) aircraft carrier in Southern Red Sea, Middle East, February 13, 2024. REUTERS/Hamad I Mohammed/File Photo

واشنگٹن : امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دو ہزار تین کے بعد سب سے وسیع فضائی طاقت جمع کر لی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدہ کر لے۔ امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں جدید لڑاکا طیاروں، معاون ہوائی بیڑے، اور حملہ آور طیارہ بردار جہازوں کا سب سے بڑا مجموعہ جمع کیا ہے۔ ایف تھرٹی فائیو۔ ایف بائیس اور دیگر لڑاکا طیارے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف اڈوں پر پہنچائے گئے ہیں، جبکہ دو طاقتور طیارہ بردار جہاز بھی بھیجے گئے ہیں۔ اس فوجی تیاری کا مقصد ایران کے خلاف ممکنہ فضائی یا محدود زمینی آپریشن کے لیے متعدد ہفتوں تک جاری رہنے والی مہم چلانے کی صلاحیت رکھنا ہے۔ امریکی اسٹراٹیجک بیڑے کی یہ تعیناتی ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگراموں کے خلاف دباؤ بڑھانے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی تہران کے جوہری پروگرام کے سفارتی حل کے خواہاں ہیں تاہم ایران کے خلاف کارروائی کے لیے متعدد آپشنز موجود ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں کے ساتھ ممکنہ حملے کے آپشنز پر بات چیت کی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular