
واشنگٹن : امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اسرائیل کیخلاف مذمتی اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا اور کہا لبنان اور غزہ سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔تفصیلات کے مطابق مسجد اقصیٰ پر اسرئیلی حملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں متعدد اراکین نے اقوام متحدہ کے اعلیٰ پینل پر زور دیا کہ وہ پیر کی رات الاقصیٰ میں پولیس کی جانب سے مسلمان نمازیوں کی پٹائی پر اسرائیل کی مذمت میں بیان جاری کرے۔ اقوام متحدہ کے سفارت کار کا کہنا تھا کہ کچھ ارکان اس بیان پر زور دے رہے تھے کہ غزہ اور لبنان سے اسرائیل پر راکٹ فائر کی مذمت بھی شامل ہو۔امریکا نے سلامتی کونسل کو اسرائیل کیخلاف مذمتی اعلامیہ جاری کرنے سے روک دیا اور کہا لبنان اور غزہ سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔مجوزہ مذمتی اعلامیے میں مسجد اقصیٰ پر اسرئیلی پولیس کے چھاپوں کی مذمت کی جانی تھی تاہم سلامتی کونسل کا اعلامیہ جاری کرنے کے لیے تمام ارکان کا متفق ہونا ضروری ہوتا ہے۔یاد رہے مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد متحدہ عرب امارات اور چین نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ اجلاس کی درخواست کی تھی۔


































