
نیویارک : اقوام متحدہ کے ماہرین نے بدنام زمانہ جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کی ای میلز میں موجود الزامات کو ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم قرار دے دیا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے وابستہ آزاد ماہرین نے امریکا کی جانب سے جاری کی گئی ایپسٹین فائلز کا جائزہ لینے کے بعد بیان جاری کیا۔ ان کا کہنا ہےکہ امریکی محکمۂ انصاف کی جاری کردہ دستاویزات میں بیان کیے گئے جرائم نسل پرستی، خواتین اور بچیوں کے خلاف منظم استحصال۔ بدعنوانی اور شدید عورت دشمنی کے پس منظر میں سرزد ہوئے۔ ماہرین کے مطابق ان جرائم کا پیمانہ، منظم نوعیت اور بین الاقوامی دائرۂ کار اتنا وسیع ہے کہ ان میں سے بعض کارروائیاں قانونی طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کی تعریف پر پوری اتر سکتی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ فائلز سے ایک ممکنہ عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کا تاثر ملتا ہے جس میں سیاست، کاروبار، سائنس اور ثقافت کی نمایاں شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں۔ ماہرین نے زور دیا کہ تمام الزامات کی مکمل چھان بین کی جائے اور یہ تعین کیا جائے کہ اتنے طویل عرصے تک ایسے جرائم کیسے جاری رہے۔


































