
اسلام آباد: وفاقی وزرا خواجہ آصف اور احسن اقبال نے کہاہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ایک بار پھر ٹارگٹ کر کے پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس پر قتل کے فتوے لگائے جا رہے ہیں۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف شرانگیز گفتگو کی گئی۔ سوشل میڈیا پر عوام کو قتل پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ ریاست کسی کو قتل کے فتوے جاری کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان میں مذہب کے نام پر خون خرابہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی گروہ،جماعت یا جتھے کو قتل کے فتوے جاری کرنے اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ریاست پوری طاقت سے ایسے فتووں کا جواب دے گی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ریاست کسی گروہ کی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔ ملک میں آئین کی حکمرانی ہونی چاہیے، انصاف کا بول بالا ہونا چاہیے۔خواجہ آصف نے کہا کہ سوشل میڈیا پر قتل پر اکسایا جارہا ہے۔ ایسی باتوں کی اجازت دی گئی تو ریاست کا شیرازہ بکھر جائے گا۔ریاست کسی گروہ کی سیاست یا مذہب کے نام پر ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گی۔ احسن اقبال نے کہا کہ یہ وہ طبقہ ہے جسے سیاسی ایجنڈےکے تحت دوہزار سترہ میں کھڑا کیا گیا۔ چیف جسٹس کو دھمکی دینا آئین سے کھلی بغاوت ہے۔ سزا و جزا کا اختیار صرف عدلیہ کے پاس ہوتا ہے۔ کسی گروہ کو یہ اجازت نہیں کہ وہ کسی کے قتل کے فتوے جاری کرے۔ دہشت گردی، خود کش حملے اور فتوے بازی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ان عناصر کے خلاف قانون پوری قوت سے حرکت میں آئے گا۔


































