
نیویارک: اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے ایران پر حملوں کے بعد سفارتکاری کی ناکامی پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ صورتحال عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ فوجی کارروائی ایسے واقعات کی زنجیر کو جنم دے سکتی ہے جسے کوئی کنٹرول نہیں کر سکے گا، خصوصاً ایسے خطے میں جو پہلے ہی انتہائی غیر مستحکم ہے۔ گوتریس نے کہا کہ بین الاقوامی تنازعات کے پُرامن حل کے سوا کوئی قابلِ عمل متبادل موجود نہیں اور حقیقی مکالمہ و مذاکرات ہی دیرپا امن کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے جنیوا میں حالیہ جوہری مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے افسوس ظاہر کیا کہ سفارتکاری کا یہ موقع ضائع کر دیا گیا۔ سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا کہ وسیع تر جنگ کے نتائج عام شہریوں اور علاقائی استحکام کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں اور تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں۔


































