
تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی
شنگھائی تعاون تنظیم کو آج بجا طور پر عالمی جغرافیائی سیاست کی تبدیلی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور خاص طور پر اسے مغربی تسلط کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جب بین الاقوامی نظام پر گذشتہ دہائیوں میں نیٹو، یورپی یونین، ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ جیسے اداروں کا غلبہ تھا، شنگھائی بتدریج وسط ایشیاء میں ایک محدود حفاظتی اقدام سے معاشی، سیاسی، سلامتی اور تہذیبی صلاحیتوں کے ساتھ کثیر جہتی بلاک میں تبدیل ہوگیا ہے۔ یہ بلاک نہ صرف ایشیاء کے لیے ایک مختلف مستقبل تخلیق کر رہا ہے بلکہ مغرب کی عالمی پوزیشن پر بھی براہ راست اور منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم ابتدائی طور پر 2001ء میں چین، روس، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کی رکنیت کے ساتھ تشکیل پائی، تاہم اگلی دو دہائیوں میں، ہندوستان اور پاکستان نے اس میں شمولیت اختیار کی اور اب ایران اور بیلاروس کے شامل ہونے کے بعد اس تنظیم کے 10 مستقل اراکین ہوگئے ہیں۔ اس تنظیم کے ممالک کی آبادی 3.3 بلین افراد اور 30 ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی جی ڈی پی (عالمی معیشت کا تقریباً ایک چوتھائی) پر مشتمل ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شنگھائی اب ایک علاقائی تنظیم نہیں ہے، بلکہ ایک عالمی معیار کی بین الاقوامی تنظیم ہے، جو دنیا کی 40 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔ مغربی اداروں پر شنگھائی کے فوائد کئی طریقوں سے قابل ذکر ہیں۔ سب سے پہلے، جیو پولیٹیکل اور انرجی مکس کے لحاظ سے۔ شنگھائی کے رکن ممالک مجموعی طور پر دنیا کے توانائی کے وسائل کے ایک اہم حصہ پر اپنا کنٹرول رکھتے ہیں: روس اور ایران گیس اور تیل کی دو بڑی طاقتوں کے طور پر، قازقستان اور ترکمانستان وسطی ایشیاء میں توانائی کے بڑے برآمد کنندگان کے طور پر اور دوسری طرف چین اور بھارت دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے صارفین کے طور پر۔ یہ توانائی اور کھپت کا سلسلہ، اگرچہ پہلے ڈالر اور مغربی کمپنیوں کے ذریعے ریگولیٹ کیا جاتا تھا، اب شنگھائی فریم ورک کے اندر قومی کرنسیوں کے ساتھ باہمی آزادی اور تبادلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ صرف چین ہی سالانہ 500 بلین ڈالر سے زیادہ کی توانائی درآمد کرتا ہے اور اس ضرورت کا ایک اہم حصہ شنگھائی معاہدوں کے فریم ورک میں ایران اور روس کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے۔
سکیورٹی کے لحاظ سے بھی شنگھائی نے نیٹو کا ایک مختلف ماڈل پیش کیا ہے۔ پچھلی دو دہائیوں کے دوران، نیٹو نے یہ ظاہر کیا ہے کہ عملی طور پر مغربی سلامتی فوجی مداخلت اور آزاد ممالک کے عدم استحکام کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ افغانستان اور عراق سے لیبیا اور شام تک اس کے ثبوت موجود ہیں، لیکن شنگھائی نے سلامتی کی تعریف تین خطرات کے خلاف مشترکہ جنگ کی شکل میں کی ہے۔ دہشت گردی، انتہا پسندی اور علیحدگی پسندی۔ وسطی ایشیائی ممبران اور روس کے لیے اہم ہے، جنہیں انتہاء پسندی اور علیحدگی پسند تحریکوں سے خطرات کا سامنا ہے۔ اس تناظر میں، حالیہ برسوں میں شنگھائی کی مشترکہ فوجی مشقیں، بشمول 2021ء کی مشقیں جس میں چین، روس اور وسطی ایشیاء کے 100,000 سے زیادہ فوجی شامل ہیں، نے یہ ظاہر کیا ہے کہ یہ تنظیم نیٹو جیسے اتحادوں کا سہارا لیے بغیر سکیورٹی ہم آہنگی پیدا کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتی ہے۔
شنگھائی، مغربی تسلط کا حقیقی متبادل
اقتصادی اور مالیاتی میدان میں، شنگھائی تعاون تنظیم مغربی تسلط کا حقیقی متبادل ہے۔ شنگھائی ممبران کے درمیان تجارت 2023ء میں 6 ٹریلین ڈالر سے زیادہ تک پہنچ گئی، اس میں سے زیادہ تر دو طرفہ اور کثیر جہتی معاہدوں کے ذریعے جن کے لیے ڈالر کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ رجحان مغربی مالیاتی غلبہ کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ مثال کے طور پر، چین اور روس کے درمیان باہمی تجارت کا 80 فیصد سے زیادہ یوآن اور روبل میں طے کرنے کے حالیہ معاہدے نے دنیا کے سب سے بڑے توانائی برآمد کنندہ اور دوسری بڑی معیشت کے تعلقات سے ڈالر کو مؤثر طریقے سے ختم کر دیا ہے۔ مزید برآں، شنگھائی فریم ورک کے اندر SWIFT کے لیے متبادل انٹربینک ادائیگی کے نظام کو شروع کرنے کا چین کا اقدام ایک ایسے مستقبل کی خبر دیتا ہے، جس میں امریکی اور یورپی پابندیوں کا دباؤ اپنی تاثیر کھو دے گا۔
لیکن جو چیز اس تنظیم کو مغرب کا سنجیدہ متبادل بناتی ہے، وہ اس کی عدم مداخلت اور کثیر الثقافتی نوعیت ہے۔ یورپی یونین یا نیٹو کے برعکس، جن کی تعریف "لبرل جمہوری اقدار” سے ہوتی ہے اور مسلسل مغربی ماڈل کو دوسرے ممالک پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں، شنگھائی تعاون تنظیم ثقافتی، سیاسی اور تہذیبی تنوع کو تسلیم کرتی ہے۔ اس تنظیم میں اسلامی جمہوریہ ایران، کمیونسٹ چین، اپنے نیم آمرانہ ماڈل کے ساتھ روس اور اپنی بڑی آبادی والی جمہوریت کے ساتھ ہندوستان بھی شامل ہیں۔ یہ بقائے باہمی ظاہر کرتا ہے کہ شنگھائی کوئی نظریاتی بلاک نہیں ہے بلکہ مشترکہ مفادات کے لیے ایک عملی بلاک ہے۔ اس خصوصیت نے مشرق وسطیٰ، مغربی ایشیاء اور یہاں تک کہ افریقہ کے ممالک کے لیے اس کی کشش میں اضافہ کیا ہے اور بہت سے لوگوں کو اس میں مبصر یا ڈائیلاگ پارٹنر کا درجہ حاصل کرنے پر مجبور کیا ہے۔
ایران، شنگھائی کی جغرافیائی سیاست میں ایک اہم کڑی ہے
ایران کو شنگھائی تعاون تنظیم میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ ایران نہ صرف شنگھائی کی جغرافیائی سیاست میں ایک کلیدی کڑی ہے، کیونکہ شمال-جنوب کوریڈور اور وسطی ایشیاء کا خلیج فارس سے رابطہ ایرانی سرزمین سے گزرتا ہے، بلکہ توانائی اور سلامتی کے حوالے سے بھی ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ ایران کے پاس تیل کے چوتھے بڑے ذخائر اور دنیا میں گیس کے دوسرے بڑے ذخائر ہیں اور وہ مشرق کی بڑی معیشتوں کے لیے ایک پائیدار سپلائر بن سکتا ہے۔ دوسری جانب داعش کے ساتھ برسوں کی جنگ کے دوران تکفیری دہشت گردی کا مقابلہ کرنے میں ایران کا عملی تجربہ شنگھائی کے لیے ایک اہم سکیورٹی معاونت ہے۔ اس کے علاوہ، ایران کی موجودگی شنگھائی تنظیم کو پہلی بار دنیا کے کھلے پانیوں سے جوڑ دے گی۔ یہ موضوع شنگھائی تعاون تنظیم کے اراکین کے لیے تجارتی رسائی کو آسان اور مغربی ناکہ بندی کو توڑ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب شنگھائی تعاون تنظیم ایران کے لیے بھی ایک تاریخی موقع ہے۔ اس تنظیم میں رکنیت کا مطلب ہے ایک بہت بڑی مارکیٹ تک رسائی ہے۔ ایران کے لئے یہ موقع مغربی پابندیوں کو بے اثر کرسکتا ہے اور محدود یورپی چینلز پر بھروسہ کرنے کے بجائے ایرانی معیشت کو تیزی سے بڑھتی ہوئی ایشیائی معیشت سے جوڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، شنگھائی تعاون تنظیم میں موجودگی ایران کو امریکی اور یورپی دباؤ کے مقابلے میں سیاسی اور سکیورٹی حمایت فراہم کرسکتی ہے اور ایران کے خلاف مغرب کی طرف سے کسی بھی یکطرفہ کارروائی کا (چین اور روس کی قیادت میں) شنگھائی تعاون تنظیم کی جانب سے بالواسطہ یا براہ راست ردعمل سامنے آسکتا ہے۔


































