
جنیوا : ایران نے جنیوا میں جوہری مذاکرات کے دوسرے دور کو مثبت اور سنجیدہ قرار دیا ہے۔ جبکہ امریکا نے بھی مذاکرات میں پیشرفت کا دعویٰ کرتے ہوئے فوجی آپشن برقرار رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات میں اچھی پیش رفت ہوئی ہے اور فریقین اصولوں پر وسیع اتفاق رائے تک پہنچ گئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ اب ممکنہ معاہدے کے مسودے پر کام شروع کیا جائے گا اور دونوں ممالک اپنے اپنے ڈرافٹ کا تبادلہ کریں گے، جس کے بعد تیسرے دور کی تاریخ طے کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ عمان میں ہونے والے گزشتہ دور کے مقابلے میں حالیہ بات چیت زیادہ نتیجہ خیز رہی۔ تاہم اختلافات کم کرنے میں وقت لگے گا۔
دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ بعض پہلوؤں سے مذاکرات مثبت رہے، لیکن صدر ٹرمپ کی مقرر کردہ چند سرخ لکیروں پر ایران ابھی آمادہ نظر نہیں آتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام ہوئی تو دیگر آپشنز بھی زیر غور رہیں گے۔


































