
ریاض : سعودی عرب نے ماہ مبارک رمضان کے دوران ٹی وی چینلز سے نماز نشر کرنے پر پابندی عائد کردی. وزارت برائے مذہبی امور اور ارشاد و تبلیغ نے مساجد کے ذمہ داران اور آئمہ جماعت کے لئے خصوصی ہدایت نامہ میں جاری کیاہے ہدایت نامہ میں کہاگیا ہے کہ آئمہ جماعت، مؤذین اور دیگر کارکنوں کی ماہ رمضان کے دوران مسجد میں موجودگی لازمی ہے، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مساجد میں موجود کیمروں کے ذریعے نماز کے دوران امام جماعت یا مامومین کی ویڈیو بنانے سے پرہیز کریں۔ اور ایسا کرنے والوں کو روکیں آئمہ جماعت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ واجب نمازوں کے بعد ’مفید‘ کتابیں نمازیوں کے لئے پڑھیں اور ایسے موضوعات پر گفتگو کریں جو قومی اتحاد کے لئے مفید ہوں۔ کسی کو روزہ داروں کے افطار کے لئے چندہ اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اسکے علاوہ بچوں کو مساجد لے جانے پر بھی اِس بہانے سے پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ یہ عمل دیگر نمازیوں کی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے آل سعود کے کرتوتوں سے پردہ اٹھانے والی ویب سائٹ سعودی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ ایسےاقدامات ولیعہد محمد بن سلمان کے ترقیاتی منصوبے وژن 2030 کا حصہ ہیں جس میں ملک کو سیکولرزم کی جانب لے جانے اور اسکی ’مذہبی‘ ماہیت کو بتدریج تبدیل کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ سعودی لیکس نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے حکومتی کابینہ میں وزارتِ اسلامی امور کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ مذہبی نظریات سے متعلق ایک جامع منصوبہ تیار کرے۔


































