
ترتیب و تنظیم: علی واحدی
فارس خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک باخبر سیاسی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ عراق میں داعش دہشت گرد گروہ کو طاقتور بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاکہ اس ملک اور خطے میں اپنی قابض موجودگی کو جاری رکھ سکے۔ اس ذریعے نے المعلومہ نیوز سائٹ کو بتایا ہے کہ امریکہ داعش کے عناصر کے خاندانوں کے تقریباً 13000 افراد کو شام کے الھول کیمپ سے موصل کے الجدعہ کیمپ میں منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ ایک ایسی کارروائی جس کا مقصد اس دہشت گرد گروہ کی سرگرمیوں کو دوبارہ تیز کرنا ہے۔ شام اور عراق میں داعش اور امریکہ کے درمیان تعاون کئی بار ثابت ہوچکا ہے۔ بلاشبہ، امریکی سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ داعش کو امریکہ نے بنایا اور اس کی قیمت بھی ادا کی۔
سابق امریکی صدر "جان ایف کینیڈی” کے پوتے "رابرٹ ایف کینیڈی” نے صدارتی انتخابات میں اپنی امیدواری کا اعلان کرتے ہوئے اپنی تقریر میں اعتراف کیا کہ واشنگٹن نے داعش دہشت گرد گروہ کو تخلیق کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس طرح سے عراق میں اپنی افواج کی موجودگی کو طول دینے کے لئے سیاسی فائدے تلاش کر رہا ہے۔ اس نے واضح کیا کہ عراق نے شام سے داعش کے تمام خاندانوں کی واپسی کے امریکی منصوبے کی مخالفت کی ہے۔ اس ذریعے نے تاکید کی کہ امریکہ اس سال کے آخر تک الھول کیمپ کو بند کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور آزاد کرائے گئے صوبوں کی سلامتی اور استحکام میں خلل ڈالنے اور اس ملک میں افراتفری پھیلانے کی کارروائی ہے۔
عراق میں سکیورٹی کے امور کے ماہرین میں سے ایک عدنان الکنانی نے بھی انکشاف کیا ہے کہ بغداد میں واشنگٹن کی سفیر ایلینا رومانوفسکی عراق کی سلامتی اور خطے کے استحکام کو درہم برہم کرنے کے منصوبے کی قیادت کر رہی ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ خطے میں اس کی مسلسل موجودگی مسائل کے حل اور عدم استحکام سے حاصل ہوتی ہے، الکنانی نے واضح کیا کہ امریکی سفیر کی جانب سے داعش کے خاندانوں کو الھول کیمپ سے عراقی سرزمین منتقل کرنے کی کوشش عراق کی سلامتی کو درہم برہم کرنے کی ایک نئی کوشش ہے۔ عراق کی وزارت خارجہ نے پہلے ہی بتایا تھا کہ امریکی سفیر نے عراقی وزیر خارجہ فواد حسین سے کہا ہے کہ وہ الہول میں واقع داعش کے تمام خاندانوں کو عراق واپس لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔
داعش دہشت گرد گروہ نے حال ہی میں اپنے حملوں میں تیزی لائی ہے۔ شام اور ایران میں حالیہ ہفتوں میں دہشت گردانہ حملوں کا مشاہدہ کیا گیا ہے۔ ان دہشتگردانہ واقعات سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ امریکہ داعش کو واپس لانے کی تیاری کر رہا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے داعش تنظیم کے بارے میں سلامتی کونسل کو دی گئی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس سال کی پہلی ششماہی میں بعض علاقوں مثلاً عراق اور شام میں داعش دہشت گرد گروہ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ داعش اب بھی عمومی طور پر سرگرم عمل ہے۔شام اور عراق میں اسے پہنچنے والے شدید نقصان اور اس کی سرگرمیوں میں کسی حد تک کمی واقع ہونے کے باوجود، داعش کی واپسی کا خطرہ اب بھی موجود ہے۔
ادھر حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے حال ہی میں ایک تقریر میں کہا ہے کہ امریکہ نے داعش دہشت گرد گروہ کو ایک بار پھر منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن یہاں پر سوال یہ ہے کہ امریکہ داعش کی واپسی کا ارادہ کیوں اور کیسے کرنا چاہتا ہے۔؟ داعش کے کچھ عناصر جو خاص طور پر شام میں موجود ہیں، ایسے کیمپوں میں موجود ہیں، جن میں سے کچھ امریکہ کے کنٹرول میں ہیں۔ شام میں الحسکہ صوبے کا الہول کیمپ، جو کہ داعش کے دہشت گردوں کا مرکزی حراستی مرکز ہے، ان کیمپوں میں سے ایک ہے، جو امریکی کنٹرول میں ہے۔ بہت سے مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ امریکی فوج داعش کے دہشت گردوں کو جیلوں سے فوجی اڈوں میں منتقل کر رہی ہے۔ ادھر سیکورٹی ذرائع نے بارہا کہا ہے کہ امریکہ شام میں دہشت گردانہ حملے کرنے کے لیے داعش کے عناصر کو تربیت اور ساز و سامان فراہم کر رہا ہے اور یہ شام میں امریکی فوجی موجودگی کا بہانہ ہے۔
امریکی پالیسی سازوں کے مطابق شام میں امریکی فوج کی موجودگی کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ درحقیقت جب سے شامی عوام کی جانب سے امریکی فوج کے انخلاء کے حوالے سے واشنگٹن پر دباؤ بڑھ رہا ہے، امریکہ نے داعش کے حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکہ شام میں داعش کے جرائم کے تسلسل کو اپنے مفادات سے ہم آہنگ سمجھتا ہے۔ اس سلسلے میں شام کے ایک مصنف "خیام الزعبی” نے رائے الیوم میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں امریکی سرگرمیوں اور ان کے اہداف نیز اس ملک کی طرف سے داعش کو دوبارہ استعمال کرنے کے آپشن کو فعال کرنے کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق ابھی تک جو واقعات پیش آئے ہیں، وہ شام کے شمالی اور مشرقی علاقے میں پیش آئے اور یہ وہ علاقے ہیں، جہاں شامی حکومت کا مکمل کنٹرول نہیں ہے۔ ان علاقوں میں دہشتگردانہ کارروائیاں یقیناً امریکی اثر و رسوخ کے فائدے میں ہیں۔
"واشنگٹن شام میں عدم استحکام اور عدم تحفظ چاہتا ہے اور وہ یہ ہدف دہشت گرد اور علیحدگی پسند گروپوں کی حمایت سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔” شام کے منظر نامے میں امریکہ کی طرف سے داعش کو واپس لانے کی کوششوں کی ایک اور وجہ شام کو غیر مستحکم اور کمزور رکھنے کے علاوہ شام میں ایران اور روس پر دباؤ ڈالنا ہے۔ امریکہ کا ایک اور ہدف ایران، عراق اور شام کے درمیان مواصلاتی لائن کے قیام کو روکنا ہے۔ اسی تناظر میں شام کے لیے امریکہ کے سابق ایلچی "جیمز جیفری” نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی افواج شام سے نہیں نکلیں گی اور ہم جنوبی شام میں دمشق اور تہران کے درمیان مرکزی راستے کو منقطع کرنے کے لیے التنف میں موجود رہیں گے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ کے دور میں بشار الاسد کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے بھی اسی طرح کے اقدامات کیے گئے تھے۔


































