
تہران : ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران مزاحمت اور حزب اللہ کی حمایت جاری رکھے گا۔ ہمیں شام میں گارنٹی ملی ہے کہ ایران کے سفارت خانے اور قونصل خانے کی حفاظت کی جائے گی اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ سیدہ زینب علیہ السلام اور حضرت رقیہ علیہ السلام کے مزارات کا تحفظ اور احترام کیا جائے گا۔ دمشق میں ہمارے سفارت خانے پر حملہ اصل گروہوں نے نہیں کیا بلکہ لوٹ مار کے مقاصد کے لیے راہگیروں نے کیا تھا۔ ایران کا مؤقف شامی عوام کی خواہشات کی حمایت کرنا ہے۔ شامی حکومت نے عسکریت پسندوں سے لڑائی کے لیے ایران سے مدد نہیں مانگی۔ ایران نے شام اور عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں مرکزی کردار ادا کیا ایران ہمیشہ سفارت کاری کو شام کے بحران کے حل کا واحد راستہ سمجھتا رہا ہے۔ کچھ شامی مسلح مخالف گروپس کو اقوام متحدہ نے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ خطے کے ممالک شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد کے اثرات کے بارے میں فکر مند ہیں۔ ایران اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے انہیں شام سے نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔


































