
جنیوا: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے نے دنیا میں گھروں سے بیدخل افراد کی تعداد کو پہلی بار 10 کروڑ سے بڑھا دیا ہے۔اقوام متحدہ کی پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والی ایجنسی یو این ایچ سی آر کے مطابق یوکرین میں جنگ اور دیگر تباہ کن تنازعات کے باعث دنیا میں تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے بچنے کیلئے بے گھروں کی تعداد پہلی بار 10 کروڑ کے ہندسے کو عبور کر گئی ہے۔ یہ تعداد تشویشناک ہے۔ جس سے دنیا کو ان تنازعات کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے جن کے باعث لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر جانے پر مجبور ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس کے اختتام پر ایتھوپیا، برکینا فاسو، میانمار، نائجیریا، افغانستان اور کانگو میں تشدد کے واقعات کے باعث بے گھر افراد کی تعداد نو کروڑ تھی۔ روس نے رواں سال 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس سے ملک کے اندر 80 لاکھ یوکرینی شہری بے گھر ہوئے جبکہ 60 لاکھ افراد نے پناہ کی تلاش میں سرحد پار کی۔یو این ایچ سی آر کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے کہا کہ دس کروڑ ایک بڑا عدد اور کئی لحاظ سے سنجیدہ اور تشویشناک ہے۔ یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جو قائم نہیں ہونا چاہیے تھا۔کو دنیا کو جگانے کے لیے ایک آواز کے طور پر ہونا چاہیے تاکہ یہ تباہ کن تنازعات کو حل کرنے اور روکنے، ظلم و ستم کے خاتمے، اور ان بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے لیے کام کریں جو بے گناہ لوگوں کو اپنے گھروں سے بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔دس کروڑ کی تعداد دنیا کی کُل آبادی کے ایک فیصد سے زیادہ بنتی ہے جبکہ دنیا میں اس وقت صرف 13 ملک ایسے ہیں جن کی آبادی دس کروڑ سے زائد ہے۔یو این ایچ سی آر کے مطابق اس تعداد میں مہاجرین، پناہ گزین، اور پانچ کروڑ ایسے افراد شامل ہیں جو اپنے ہی ملکوں میں بے گھر ہوئے۔یو این ایچ سی آر کے سربراہ نے کہا کہ یوکرین جنگ سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے عالمی ردعمل بہت ہی مثبت رہا ہے۔


































