
تہران : ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی نے شعیہ سنی اتحاد کو اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے اہل سنت علماء کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ ابراہیم رئیسی نے ملک کی تاریخ میں اہل سنت ہم وطن اور علماء کے مقام و مرتبے کو بہت اہم بتاتے ہوئے کہا کہ اہل سنت علماء و دانشور اپنے شہروں میں بہت سی خدمات انجام دے رہے ہیں اور برسوں سے اسلامی ملک میں شیعہ سنی آپس میں مل کر زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر ماضی میں سرحدی آمدنی کو سرحدی لوگوں کو دے دیا جاتا اور سرحدی منڈیاں سرگرم ہوتیں تو موجودہ مشکل پیش نہ آتی۔ انہوں نے اپنی ملاقات کے دوران خطے میں تکفیری عناصر کے پھیلتے دائرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تکفیری اور سلفی افکار کی طرف سے خبردار رہنے کی ضرورت ہے اور برطانوی شیعہ اور امریکی سنی دونوں ہی ایک سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں ہی اسلامی دنیا میں اتحاد کے خلاف ہیں۔


































