
تہران: ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے کہا ہے کہ اگر امریکا پابندیاں اٹھانے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے تو ایران جوہری معاہدے کے لیے سمجھوتے پر غور کرنے کو تیار ہے۔ بی بی سی کو انٹرویو میں تخت روانچی نے کہا کہ اگر وہ مخلص ہیں تو مجھے یقین ہے کہ ہم ایک معاہدے کی راہ پر گامزن ہوں گے۔ گیند امریکا کے کورٹ میں ہے وہ ظاہر کرے کہ وہ واقعی ڈیل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایران کی جانب سے ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم کو کم کرنے کی پیشکش کو سمجھوتے کی خواہش کی مثال قرار دیا۔ نائب وزیر خارجہ نے کہا کہ صفر افزودگی کا مسئلہ اب موضوع نہیں رہا اور ایران کے لیے یہ اب میز پر بھی نہیں ہے۔ انہوں نے پابندیوں کے مکمل یا جزوی خاتمے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن کہا کہ ایران دیگر پروگرام سے متعلق مسائل پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، اگر امریکا بھی پابندیوں پر بات کرنے کے لیے تیار ہو۔ انہوں نے کہا کہ تہران کا بیلسٹک میزائل پروگرام زیر بحث نہیں ہے۔ ہم پر اسرائیلیوں اور امریکیوں نے حملہ کیا اور میزائل ہماری مدد کریں تو ہم اپنی دفاعی صلاحیتوں سے محروم رہنا کیسے قبول کر سکتے ہیں؟۔


































