
الهبة الشعبية في القدس 2021
تحریر: حسین لافی (تجزیہ نگار المیادین چینل)
تقریباً کوئی ایسا دن نہیں جب میڈیا پر مغربی کنارے میں جھڑپوں، فلسطینیوں کی شہادت، ان کے گھروں کی مسماری یا وسیع پیمانے پر فلسطینیوں کی گرفتاری کی خبر سنائی نہ دیتی ہو۔ فلسطین کا علاقہ مغربی کنارہ اب ماضی کی طرح نہیں رہا اور 12 روزہ سیف القدس معرکے کے بعد ہر چیز تبدیل ہو چکی ہے۔ آج مغربی کنارہ ایسے آتش فشاں کی مانند ہے جو پھٹنے کے قریب ہو۔ اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے مسئلہ فلسطین سے چشم پوشی کرنے کی تمام تر کوشش کے باوجود یہ مسئلہ اسرائیل کی قومی سلامتی کیلئے اصل چیلنج کے طور پر موجود ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف اسرائیلی تھنک ٹینک "نیشنل سکیورٹی ریسرچ سنٹر” نے کیا ہے۔ سابق وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے یہ تاثر دینے کی بھرپور کوشش کی کہ مسئلہ فلسطین اسرائیل کیلئے اہم نہیں لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
اگرچہ بنجمن نیتن یاہو کی طرح موجود صہیونی حکمرانوں نے بھی مسئلہ فلسطین کے بارے میں "راہ حل سے عاری حکمت عملی” اپنا رکھی ہے لیکن ان کے پاس زمینی حقائق کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔ خاص طور پر غزہ میں اسلامی مزاحمتی گروہوں اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ سیف القدس معرکے کے بعد مغربی کنارہ بھی غزہ کے ساتھ مل کر غاصب صہیونی رژیم کے خلاف مزاحمت کا راستہ اختیار کر چکا ہے۔ صہیونی حکمرانوں نے شروع سے مغربی کنارے میں مقیم فلسطینی شہریوں کو غزہ میں موجود اسلامی مزاحمتی گروہوں کے طرز فکر سے دور رکھنے کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس مقصد کیلئے فلسطین اتھارٹی کے رہنماوں کو بھی استعمال کیا ہے لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا اور آج مزاحمتی سوچ مغربی کنارے میں بھی سرایت کر چکی ہے۔
اسرائیل کی غاصب صہیونی رژیم اور اس کے سکیورٹی ادارے تین طریقوں سے مغربی کنارے پر اپنا فوجی اور سکیورٹی اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ پہلا طریقہ مغربی کنارے کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا ہے تاکہ آسانی سے پورے علاقے پر اپنا کنٹرول قائم کر سکیں۔ دوسرا طریقہ مغربی کنارے میں مقیم فلسطینیوں کے درمیان اپنا جاسوسی نیٹ ورک پھیلانے پر مشتمل ہے۔ اس طرح صہیونی رژیم مغربی کنارے میں مقیم فلسطینیوں کی تمام سرگرمیوں اور فعالیت پر نظر رکھنے کے درپے ہے۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ فلسطینی جوانوں کو فیس بک یا ٹویٹر پر صرف ایک پیغام لگانے پر گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ تیسرا طریقہ فلسطین اتھارٹی کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر مشتمل ہے۔ صہیونی حکمران شروع سے ہی فلسطین اتھارٹی کے اہلکاروں سے مل کر اسلامی مزاحمت کو کچلنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
مغربی کنارے پر کنٹرول قائم کرنے کی ان تمام کوششوں کے باوجود مغربی کنارے میں غاصب صہیونی رژیم کے خلاف مزاحمت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ صہیونی حکمران اس وقت شدید خوفزدہ ہیں کیونکہ خود صہیونی تھنک ٹینکس کے مطابق عنقریب مغربی کنارے میں بھرپور مزاحمتی تحریک شروع ہونے کے امکانات بہت قوی ہو چکے ہیں۔ مغربی کنارے کے شمالی حصے سے لے کر جنوبے حصوں تک فلسطینی شہریوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح گرفتار ہونے والے فلسطینیوں میں ہر طبقے کے افراد شامل ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مزاحمتی سوچ فلسطینیوں کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد تک پھیل چکی ہے۔ دوسری طرف صہیونی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی جانب سے احتجاج کی شدت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
اس وقت صہیونی جیلوں میں قید فلسطینیوں کی تعداد 4500 کے قریب ہے جن میں 34 خواتین اور 180 بچے بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 90 فیصد افراد کا تعلق مغربی کنارے سے ہے۔ لہذا قیدیوں کا احتجاج بھی مغربی کنارے میں صہیونی رژیم کے خلاف احتجاجی تحریک میں شدت آنے کا باعث بن رہا ہے۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی کنارے میں مزاحمتی تحریک دھیرے دھیرے صہیونی عناصر کے خلاف مسلح کاروائیوں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ غاصب صہیونی عناصر پر فائرنگ کے واقعات حتی فلسطینی دیہاتوں اور قصبوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ان واقعات کی بدولت خاص طور پر مغربی کنارے کے شمالی حصوں اور جنین کیمپ میں صہیونی سکیورٹی فورسز کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں۔ یہودی بستیوں میں صہیونی گارڈز بھی فائرنگ کے واقعات سے محفوظ نہیں رہے۔
مذکورہ بالا حالات غاصب صہیونی رژیم کو مغربی کنارے میں مزید جارحانہ اقدامات انجام دینے پر مجبور کر رہے ہیں اور اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ صہیونی فورسز فلسطین اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں میں بھی براہ راست فوجی مداخلت شروع کر دیں گی۔ اس کی ایک مثال گذشتہ ہفتے نابلس میں تین فلسطینی جوانوں کی غاصب صہیونی فورسز کے ہاتھوں شہادت کی صورت میں قابل مشاہدہ ہے۔ اس کا نتیجہ فلسطینی شہریوں کی جانب سے فلسطین اتھارٹی پر عدم اعتماد کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ اس وقت صہیونی رژیم شدید مخمصے کا شکار ہے کیونکہ اگر وہ کھل کر مغربی کنارے میں فوجی مداخلت کرتی ہے تو فلسطین شہریوں میں فلسطین اتھارٹی سے نفرت بڑھنے کا خدشہ ہے اور یہ صہیونی رژیم کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسری طرف مغربی کنارے میں روز بروز بڑھتی مزاحمتی تحریک پر خاموش تماشائی بھی نہیں بن سکتی۔


































