
تہران: ایران کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے ہیلی کاپٹر حادثے کے بارے میں ابتدائی رپورٹ جاری کر دی۔ ایرانی فوج کی جانب سے جاری پہلی رپورٹ کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کا ہیلی کاپٹر کسی دہشت گردی کا نشانہ نہیں بنا، ہیلی کاپٹر اپنے پہلے سے طے شدہ راستے پر تھا اور پرواز کے راستے سے نہیں ہٹا۔ رپورٹ کے مطابق حادثے سے تقریباً ڈیڑھ منٹ قبل ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے قافلے کے دیگر پائلٹوں سے رابطہ کیا، ہیلی کاپٹر کے ملبے پر گولیوں یا اس سے ملتی جلتی اشیاء کا کوئی سراغ نہیں ملا، حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر میں آگ لگ گئی۔
ایرانی جنرل اسٹاف کی رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ واچ ٹاور اور پرواز کے عملے کے درمیان بات چیت میں کوئی مشکوک مسئلہ نہیں پایا گیا، مزید تفصیلات تحقیقات آگے بڑھنے پر جاری کی جائیں گی۔ ایرانی جنرل اسٹاف کی ابتدائی رپورٹ میں تفتیش کاروں نے کسی پر بھی الزام عائد نہیں کیاہے۔


































