
برلن: جرمنی کے ڈوئچے بینک کے مطابق ایران جنگ پیٹرو ڈالر کے خاتمے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ جو امریکا کی عالمی مالیاتی طاقت کا اہم ستون ہے۔ ڈوئچے بینک کی محقق مالیکا ساچدیوا نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی اسٹریٹجک اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ موجودہ تنازع پیٹرو ڈالر کے نظام کی بنیادوں کا امتحان لے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی ریزرو کرنسی کے طور پر ڈالر کے کردار کیلئے مشرق وسطیٰ کی بڑی تزویراتی اہمیت کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔
واضح رہےکہ پیٹرو ڈالر اس معاہدے سے پیدا ہوا جس کے تحت خلیجی ممالک اپنا تیل ڈالر میں فروخت کرتے ہیں اور حاصل شدہ آمدنی کو دوبارہ امریکا میں سرمایہ کاری کرتے ہیں۔سچدیو نے لکھا کہ موجودہ تنازع امریکی سکیورٹی کے دائرہ کار، خلیج کے بنیادی ڈھانچے اور عالمی تیل کی تجارت میں سمندری تحفظ پر مزید سوال اٹھا سکتا ہے۔ ان کے مطابق خلیج کی معیشتوں کو پہنچنے والا نقصان ان کے ڈالر میں موجود غیر ملکی اثاثوں کی بچت کو ختم کرنے کی طرف مائل کر سکتا ہے، جس سے پیٹرو ڈالر کے نظام پر شدید اثر پڑ سکتا ہے۔


































