
واشنگٹن : انسان جھوٹ کو کتنا ہی چھپانے کی کوشش کرے مگر کبھی نہ کبھی سچ اس کی زبان پر آہی جاتا ہے۔ اور یہ اس کی شرمندگی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ کچھ ایسا ہی عراق پر حملے کی اجازت دینے والے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ بھی ہوا جن کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا کہ عراق پر حملہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ تھا۔ امریکی ریاست ڈیلاس میں تقریر کے دوران سابق صدر کی زبان لڑکھڑانے سے شہری لطف اندوز ہوئے، لیکن اس سے عراقیوں کا غصہ بڑھے گا۔ وہ یوکرین پر روس کے حملے پر بات کر رہے تھے۔
جارج ڈبلیو بش کا کہنا تھا کہ ایک آدمی کی جانب سے عراق پر غیر منصفانہ اور ظالمانہ حملے کا فیصلہ، مطلب ہے یوکرین، اس جملے پر حاضرین نے قہقہے لگائے۔ بش کی زبان لڑکھڑانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے اور ٹوئٹر پر کی گئی پوسٹ کو آدھے دن میں ڈیڑھ کروڑ کے قریب لوگوں نے دیکھا ہے۔ اس پر عراق میں بھی تبصرے ہو رہے ہیں۔ عراقی صحافی عمر الجنابی نے کہا کہ عراق پر حملہ اور اس کی تباہی بش کا پیچھا کر رہی ہے اور یہ ان کے ضمیر کی آواز ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ہاں یہ غیر منصفانہ اور ظالمانہ حملہ تھا جو آپ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب رہے گا۔
امریکا نے عراق پر مارچ 2003 میں حملہ کیا تھا اور صدام حسین کی حکومت پر الزام لگایا تھا کہ اس کے پاس کیمیائی ہتھیار ہیں جو بعد ازاں نہیں مل سکے۔ امریکا نے صدام حکومت گرا دی تھی جس کے بعد وہاں فرقہ واریت پھیلی اور جہادی گروہ بنے۔ اور 2011 میں امریکا کے فوجی انخلا تک ایک لاکھ عراقی شہری جبکہ 45 سو امریکی ہلاک ہوئے۔


































