
ہیگ : بین الاقوامی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے الزام میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کردئے۔ہیگ میں قائم عدالت نے روس میں بچوں کی غیر قانونی منتقلی اور ملک بدری کی وجہ سے پیوٹن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ پیوٹن بچوں کی غیر قانونی ملک بدری اور انہیں یوکرین کے مقبوضہ علاقوں سے روسی فیڈریشن کو غیر قانونی منتقلی کے جنگی جرم کے لیے مبینہ طور پر ذمہ دار ہیں۔ عدالت نے روسی صدر کے دفتر میں تعینات بچوں کے حقوق کی کمشنر ماریا لووا بیلووا کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ کریملن نے وارنٹ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا کوئی دائرہ اختیار نہیں ہے اور فیصلہ کالعدم اور باطل ہے۔ وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا کا کہنا ہے کہ قانونی طور پر انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے فیصلوں کا ہمارے ملک کیلئے کوئی مطلب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے آئین کو تسلیم نہیں کرتا لہٰذا وہ اس عدالت کے کسی فیصلے کو ماننے کا پابند نہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے فیصلےکا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے جائز قرار دیا۔


































