
لاہور: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آرمی چیف فیصلہ کرتاہے جبکہ باقی سب اس پر عمل کرتے ہیں، سپریم کورٹ کا تقسیم رہنا ملک کے لیے المیہ ہوگا۔ جرمن نشریاتی ادارے کو انٹریو اور لاہور ہائی کورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں عمران خان نے کہا کہ سب کو دعا کرنی چاہیے کہ سپریم کورٹ میں اتحاد ہو، جب تک آپ آئین نہیں بچاتے آپ ملک نہیں بچاسکتے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے یہ سارے بھاگ رہے ہیں، انہیں نہ آئین کی فکر ہے نہ قانون کی فکر ہے، یہ چاہتے ہیں کسی طرح اپنا این آر او بچالیں۔عمران خان کا کہنا تھاکہ اداروں کے غلط کاموں پر تنقید نہ ہونے سے معاشرہ تباہی کی طرف جاتا ہے‘ہمارے لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے لاپتہ کیا جا رہا ہے اور گھروں پر حملے کرائے جارہے ہیں۔ یہ سب خوف پھیلانے کیلئے کیا جارہا ہے لیکن ڈرتا کوئی نہیں ، انسانی بنیادی حقوق تو یہاں ہیں ہی نہیں ۔علی امین گنڈا پور کے ساتھ دیکھیں کیا کیا۔ رات کو عدالت لگا کر اُنہیں بھکر لے گئے ، دنیا میں ہمارا مذاق بن رہا ہے ، لوگ بنانا ری پبلک کہیں گے ، سپریم کورٹ لوگوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے ، ہم صرف 90 دنوں میں الیکشن کی شق پر عملدرآمد کی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے ہمارے تین ہزار کارکنوں کو پکڑا ہوا ہے،ہر روز نئی ایف آئی آر ہوتی ہے۔علاوہ ازیں عمران خان نے جرمن نشریاتی ادارے کو انٹریو میں کہاہے کہ حکومت الیکشن سے خوفزدہ ہے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ ہار جائیں گے ‘ وہ مجھے اقتدارمیں نہیں دیکھنا چاہئے کیوں کہ انہیں ڈر ہے کہ میں انہیں انصاف کے کٹہرے میں لاؤں گااور ہماری پوری جدوجہد اسی کے گرد گھوم رہی ہے۔


































