
ریاض : سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ طور پر پہلا معاہدہ طے ہونے کے امکانات ہیں۔ اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل بحیرہ احمر میں دو جزائر کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل کرنے کی سعودی اپیل پر غور کر رہا ہے۔دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پہلے سے ہی ریاض اور یروشیلم کی جانب سے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹے چھوٹے اقدامات اُٹھائےجانے کی خبریں بین الاقوامی میڈیا پر گردش کررہی ہیں۔رپورٹ کے مطابق، امریکا، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان اس معاہدے کو طے کروانے کی کوشش کر رہا ہے، امریکا کی توجہ بحیرہ احمر(Red Sea) میں واقع تیران اور صنافیر جزائر کی خود مختاری مصر سے سعودی عرب کو منتقل کرنے پر مرکوز ہے۔اس حوالے سے مصری پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ نے ان جزائر کو ریاض منتقل کرنے کی منظوری دے دی، لیکن 1979 کے اسرائیل مصر امن معاہدے کی وجہ سے، جزائر کی خود مختاری کی منتقلی کے عمل کو پورا کرنے کے لیے اسرائیل کی منظوری بھی ضروری ہے۔


































