Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

جاگیردار ریاست، شہری معیشت اور ایک ناکام منصوبہ BRT

تحریر: آدم عباس

کراچی میں BRT کسی شہری ٹرانسپورٹ وژن کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ابتدا ہی سے ایک کنسٹرکشن اسکیم تھی جسے عوامی سہولت کا نام دے دیا گیا۔ ایک ایسے شہر میں جہاں پہلے ہی سڑکیں ناکافی، ٹریفک بے ہنگم اور شہری بہاو شدید دباو میں تھا، وہاں ہر بڑے کوریڈور سے چالیس سے پچاس فیصد جگہ کاٹ کر بسوں کے لیے مخصوص لین بنا دی گئی۔ یونیورسٹی روڈ، ناظم آباد اور سرجانی جیسے راستوں پر عام شہری کی گنجائش کم کی گئی، اور ایک کم استعداد ماڈل کو زبردستی مسلط کیا گیا۔

بیہاں بنیادی سوال بس بمقابلہ ٹرین کا نہیں تھا۔ اصل سوال capacity، efficiency اور long-term sustainability کا تھا۔ ایک میٹرو یا لائٹ ریل ٹرین بیک وقت کئی بوگیوں کے ذریعے ہزاروں مسافروں کو منتقل کر سکتی ہے۔ اس کے مقابلے میں BRT میں وہی کام کرنے کے لیے درجنوں بسیں درکار ہوتی ہیں، ہر بس کے لیے الگ ڈرائیور، الگ فیول، الگ مینٹینس۔ نتیجہ یہ کہ پورا نظام مستقل operational chaos میں رہتا ہے۔ کراچی جیسے میگا سٹی میں جہاں روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں، وہاں بس بیسڈ ماڈل فطری طور پر ناکافی ہے۔

اس سے بھی اہم پہلو ادارہ جاتی معیار کا ہے۔ ریل سسٹم سخت تکنیکی نظم مانگتا ہے: سگنلنگ، آٹومیٹڈ کنٹرول، حفاظتی پروٹوکول اور مستقل ٹریک مینٹینس۔ یہ سب میرٹ، مہارت اور مضبوط اداروں کے بغیر ممکن نہیں۔ بس سسٹم اس کے برعکس اسانی سے آوٹ سورس ہو جاتا ہے۔ روٹس الگ، مینٹینس الگ، فیول سپلائی الگ، اسٹیشن الگ۔ ہر جگہ سب کنٹریکٹ، ہر مرحلے پر فائل اور دستخط۔ یہی وہ خلا ہے جہاں کمیشن اور رشوت کا مستقل بہاو پیدا ہوتا ہے۔

گاڑیوں کا وزن, مسلسل بریکنگ, موسمی اثرات, ناقص مٹیریل وغیرہ سڑکوں کو تیزی سے تباہ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ہر چند سال بعد نئی لین، نیا اسفالٹ اور نئے ٹینڈر سامنے آتے ہیں۔ ہر ٹینڈر کے ساتھ نئی فائلیں، نئے فیصلے اور نئی کمائی۔ اس کے مقابلے میں ٹرین ٹریک ایک بار بڑی سرمایہ کاری مانگتا ہے، مگر پھر دہائیوں تک مستحکم چلتا ہے۔ یہی بنیادی فرق ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کراچی میں ٹرین کو سنجیدگی سے آنے نہیں دیا گیا۔

کراچی ایک شہری معیشت پیدا کرتا ہے, مزدور، ٹیکنیشن، کلرک، ڈرائیور، دکاندار اور فیکٹری ورکر۔ یہاں قدر محنت سے بنتی ہے۔ مگر اس قدر پر اختیار ایسے طبقے کا ہے جس کی سماجی جڑیں جاگیرداری میں پیوست ہیں۔ یہی وہ بنیادی تضاد ہے جس نے کراچی کو ہمیشہ انتظامی مسئلہ بنا کر رکھا۔ یہی تضاد اسے BRT جیسے ناکام منصوبوں کا شکار بھی بناتا ہے۔ شہر صنعتی محنت سے بنتا ہے، مگر اس پر حکمرانی جاگیردارانہ اشرافیہ کرتی ہے، اور فیصلہ سازوں کا شہری زندگی سے کوئی نامیاتی تعلق نہیں۔ ان کے لیے کراچی ایک living organism نہیں بلکہ revenue source ہے۔ اسی لیے یہاں شہری بہاو کی فکر نہیں کی جاتی، زمین اور کنکریٹ کی سیاست ہوتی ہے۔

اس لٸیے BRT کراچی میں شہری سہولت نہیں بلکہ rent-seeking machine بن کر سامنے آیا۔ کنسٹرکشن کمپنیاں کماتی رہیں، کنسلٹنٹس فیس لیتے رہے، نجی آپریٹر guaranteed profit پر بیٹھ گئے، جبکہ ریاست سبسڈی دیتی رہی۔ عام شہری کے حصے میں تنگ سڑکیں، لمبا سفر اور ناقص سروس آئی۔

یہ سب کسی انتظامی غلطی کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک گہرے سماجی ڈھانچے کا اظہار ہے۔ پاکستان کی ریاست نوابادیاتی وراثت اور مقامی جاگیرداری کے امتزاج سے بنی ہے۔ یہاں طاقت زمین، تعلقات اور وفاداریوں سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ پیداواری صلاحیت یا شہری مہارت سے۔ جدید mass transit صنعتی معاشروں کی پیداوار ہوتی ہے، جو وقت کی قدر، انسانی بہاو کی سمجھ اور طویل المدت منصوبہ بندی پر کھڑی ہوتی ہے۔ جاگیردار ریاست ان اصولوں پر نہیں چلتی۔

جاگیردارانہ ذہنیت میں منصوبہ system نہیں ہوتا، event ہوتا ہے۔ افتتاح، تختی، تصویر۔ اس کے بعد منصوبہ اپنی قسمت پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ٹرین جیسے نظام میں یہ ممکن نہیں، کیونکہ وہ روز حساب مانگتا ہے۔ اس کے برعکس بس ماڈل کو ٹکڑوں میں بانٹا جا سکتا ہے، جس سے طاقت بکھرتی نہیں بلکہ مخصوص ہاتھوں میں مرکوز رہتی ہے۔

ورکنگ کلاس کی اکثیرت پہلے ہی کراچی کے مضافاتی علاقوں میں دھکیلی جا چکی تھی اسے تیز رفتار زیادہ گنجاٸش ریل چاہیے تھی۔ مگر بسوں نے صرف connectivity کا illusion دیا۔

یہاں مسئلہ ٹرانسپورٹ کا نہیں، ریاست کے طبقاتی کردار کا ہے۔ کراچی صنعتی ہے، مگر اس پر حکومت جاگیردار ذہنیت کرتی ہے۔ یہی تضاد ہر شہری منصوبے کو بگاڑ دیتا ہے۔

کراچی میں BRT ناکام اس لیے نہیں ہوا کہ وسائل کم تھے، بلکہ اس لیے کہ نیت شہری نہیں تھی۔ یہ منصوبہ ناجائز منافع، کمیشن اور سرکاری رشوت خوری کے لیے بنایا گیا۔ مگر تاریخ کا بہاو ایک سمت میں جاتا ہے۔ جاگیرداری وقتی طور پر رکاوٹ ڈال سکتی ہے، منصوبوں کو بگاڑ سکتی ہے، شہروں کو زخمی کر سکتی ہے مگر صنعتی اور شہری معیشت کو مستقل قید نہیں رکھ سکتی۔

کراچی جیسے شہر بالاخر شہری انتظامیہ، شہری معیشت اور شہری اختیار کی طرف ہی بڑھتے ہیں۔ اور یہی سفر، چاہے سست ہو یا تکلیف دہ، آخرکار جاگیردارانہ ڈھانچے کو کمزور کرتا ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular