
جدہ: اسلامی تعاون تنظیم نے یورپی یونین کی چیئرپرسن کے بیان کو امید شکن۔ انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم سیکریٹریٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے یورپی یونین کی چیئرپرسن ارسلا وان ڈیر لین نے جو بیان دیا ہے وہ انسانی حقوق، بین الاقوامی قانون اور عالمی اداروں کے فیصلوں پر مبنی یورپی یونین کی قراردادوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ان کے بیان میں امید شکن سیاسی اور تاریخی باتیں شامل ہیں۔یورپی یونین کی چیئرپرسن نے اپنے بیان میں ہزاروں سال پر محیط تاریخی، سیاسی اور قانونی حقائق کو نظرانداز کردیا۔ او آئی سی کے بیان میں کہا گیا ہےکہ فلسطینی المیہ آزادی اور انصاف کی اقدار کی شکست اور انسانی ضمیر پر آج بھی بوجھ بنا ہوا ہے۔ فلسطینی المیہ اسرائیل کے قیام کے اعلان کا نتیجہ ہے جس کے باعث فلسطین سے نسلی تطہیر، جبری نقل مکانی ہوئی۔ فلسطینیوں پر جبر و تشدد کیا گیا۔ ان کی املاک ضبط کی گئیں اور انہیں ان کے جائز حقوق سے محروم کیا گیا۔ او آئی سی نے یورپی یونین سےمطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کو ختم کرانے کے حوالے سے اپنی سیاسی، قانونی اور انسانی ذمہ داری ادا کرے اور فلسطینیوں پر جاری ظلم بند کرائے۔ان کے جائز حقوق کی حمایت کرے۔
یورپی یونین کی چیئرپرسن وان ڈیر لیین نے اپنے بیان میں اسرائیل کی جمہوریت اور یورپ کے ساتھ اس کے تعلقات کی تعریف کی تھی اور اسرائیل کو صحرا میں پھول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج ہم مشرق وسطیٰ کے قلب میں متحرک جمہوریت کے 75 سال کا جشن منا رہے ہیں۔ ہم میں جغرافیہ سے کہیں زیادہ مشترکات ہیں۔ ہماری مشترکہ ثقافت، ہماری اقدار اور سینکڑوں ہزاروں دوہری یورپی اسرائیلی شہریوں نے ہمارے درمیان گہرا تعلق پیدا کیا ہے۔


































