Sat Oct 10, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

داعش دہشتگردوں کا خاتمہ

تحریر: سید رضی عمادی

آج 10 دسمبر 2023ء، داعش دہشت گردوں کے خلاف عراق کی فتح کی چھٹی سالگرہ ہے۔ عراق کو اپنی عصری تاریخ کے دوران بہت سے تلخ دن دیکھنے پڑے ہیں، جن میں بعثی حکومت کے مظالم شامل ہیں، لیکن عراق میں سب سے تلخ واقعات میں سے ایک 2014ء میں داعش کے دہشت گردوں کی طرف سے ملک پر بڑے پیمانے پر وحشیانہ حملہ تھا۔ اس حملے میں عراق کے ایک تہائی جغرافیہ پر قابض داعش نے بڑے پیمانے پر قتل عام سے لے کر آتش زنی، سر قلم کرنے اور عراقی شہریوں کو زندہ دفن کرنے جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔

جیسے ہی عراق پر داعش کا قبضہ ہوا، عراقی شیعوں کے سپریم لیڈر آیت اللہ سیستانی نے فتویٰ جاری کیا اور داعش کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے لیے ایک عوامی تحریک کی تشکیل کا اعلان کیا۔ اس فتوی کے نتیجے میں حشد الشعبی کا قیام عمل میں آیا۔ حشد الشعبی کی تشکیل نے عراق میں بہت سے مزاحمتی گروہوں کی تشکیل کی بنیاد فراہم کی۔ ان گروہوں نے داعش کے خلاف جنگ اور عراق کے جغرافیہ کو ان دہشت گردوں کے شر سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ عراقی فوج اور سکیورٹی فورسز نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ داعش کے حملے کے آغاز میں عراقی فوج ہم آہنگی اور اتحاد سے عاری تھی اور داعش کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

ساڑھے تین سال کی لڑائی کے بعد عراق کے سابق وزیراعظم حیدر العبادی نے 10 دسمبر 2017ء کو ملک کو داعش سے مکمل آزاد کرانے کا اعلان کیا، اس عظیم فتح کو 6 سال ہوچکے ہیں۔ عراقی سیاسی اور تزویراتی امور کے ماہر "کرم سعدی” نے لکھا ہے ” 2017ء میں عراق میں کردستان کی آزادی کے ریفرنڈم سے قطع نظر سب سے اہم واقعہ اس ملک میں داعش کے مقدمے کا خاتمہ ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اعلان کیا تھا کہ 43 ماہ تک جاری رہنے والی سخت اور شدید لڑائیوں کے بعد اور عالمی برادری کی حمایت سے عراقی سکیورٹی فورسز اور فوجی دستوں نے ان تمام علاقوں اور مقامات کو اپنے کنٹرول میں لے لیا، جو برسوں سے داعش کے قبضے میں تھے۔

داعش کے دہشت گردوں کے خلاف ملک کی فتح کی چھٹی سالگرہ کے موقع پر ایک بیان میں عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی نے تاکید کی کہ ہمیں ملک کی مسلح افواج کی بہادرانہ کارکردگی پر فخر ہے، جنہوں نے جہاد کے فتوے پر عمل کیا۔ عراق کے شیعوں کے اعلیٰ ترین اور مقتدر مرجع آیت اللہ سید علی سیستانی کی طرف سے فتویٰ نے اس جنگ کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک بیان میں عراقی صدر عبداللطیف جمال رشید نے تمام عراقیوں کو اس دن کی مبارکباد دی اور وطن کے دفاع اور اس کے وقار کے تحفظ میں سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور اتھارٹی کے اہم کردار کو سراہا۔

داعش کیخلاف جنگ میں عراق کی حفاظت میں ایران کا عظیم کردار
عراق میں داعش کی شکست کی اہم بات یہ ہے کہ عراقیوں کے مطابق اس فتح میں اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی بڑا کردار ادا کیا۔ IRGC کی قدس فورس کے شہید کمانڈر شہید جنرل قاسم سلیمانی ان لوگوں میں شامل تھے، جو اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ عراق میں داعش کے خلاف جنگ میں صف اول میں تھے۔ عراق کے سابق وزیراعظم مصطفیٰ الکاظمی ان شخصیات میں شامل تھے، جنہوں نے داعش کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کو سراہا۔

اس سلسلے میں الکاظمی نے کہا تھا "میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جو داعش کے خلاف جنگ میں عراقی قوم کے ساتھ کھڑے ہوئے، داعش سیاہ قوتیں اور خوارج ہیں اور میں اسلامی جمہوریہ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جو ہمیشہ ہمارے ساتھ کھڑا رہا۔” آج عراق میں نسبتاً استحکام اور سلامتی ہے اور دہشت گرد گروہ اس ملک میں عدم تحفظ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس کے ساتھ ساتھ عراقی مزاحمتی گروہوں کے ایجنڈے میں امریکہ کے خلاف جنگ بھی ہے، کیونکہ وہ عراقی فوج کے مکمل انخلاء کا مطالبہ کرتے ہیں اور عراق کی مکمل آزادی پر زور دیتے ہیں۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular