
دوحہ : قطر کے دارلحکومت دوحہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس طالبان کو باضابطہ تسلیم کرنے کا فیصلہ کئے بغیر ختم ہوگئی۔ اجلاس میں چین ۔ امریکا ۔یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم نے حصہ لیا۔ طالبان انتظامیہ کو اجلاس میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ یہ اجلاس طالبان حکام کو تسلیم کرنے کے بارے میں نہیں مشترکہ بین الاقوامی نقطہ نظر کو فروغ دینے کے بارے میں تھا۔ افغان حکمرانوں سے براہ راست بات چیت کرنے کا یہ مناسب وقت نہیں ہے۔ انتونیو گوتیرس نے افغان خواتین کے حقوق پر طالبان حکومت کی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بحران کے شکار افغانستان میں استحکام کے حوالے سے عالمی برادری کے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے افغان خواتین پر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور این جی اوز کے لیے کام کرنے پر پابندی کے بعد طالبان حکومت پر دباؤ ڈالنے کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے افغانستان میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے یا نہ رکھنے کا حتمی فیصلہ جمعے کو کیا جائے گا، جسے اقوام متحدہ نے ایک انتہائی مشکل فیصلہ قرار دیا ہے۔


































