
لندن : کشتی کے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں 27 افراد کی ہلاکت پر برطانیہ اور فرانس کےسربراہان میں لفظی جنگ چھڑ گئی ہے۔برطانیہ میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش میں فرانس کے قریب سمندر میں کم از کم 27 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل تھیں۔یہ واقعہ حالیہ برسوں میں انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں ہونے والے بڑے پیمانے پر جانی نقصانات کے واقعات میں سے ایک ہے۔فرانس کے صدر ایمانوئل میکخوان اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن دونوں نے ہی اس اندوہناک واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ میکخوان نے کہا تھا کہ وہ انگلش چینل کو قبرستان نہیں بننے دیں گے۔ دونوں سربراہان نے تارکین وطن کےغیرقانونی داخلے کو روکنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق ظاہر کیا تھا تاہم دونوں نے ہی ایک دوسرے پر ناکافی اقدامات کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ ٹیلیفونک رابطے میں میکخوان نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے جانسن پر زور دیا تھا کہ وہ تارکین وطن کے غیرقانونی داخلے کے معاملے کو سیاسی رنگ دینا بند کریں۔ جانسن نے بتایا کہ انہوں نے میکخوان کو لکھا ہے کہ پانچ اقدامات کیے جائیں جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ یہ جلد سے جلد کیے جانے چاہییں تاکہ چھوٹی کشتیوں میں سوار ہو کر انگلش چینل عبور کرنے کی کوشش میں آئندہ لوگوں کی ہلاکت کے واقعات سے بچا جا سکے۔ ٹوئٹر پر ایک تھریڈ میں بورس جانسن نے لکھا کہ فریقین نے صورتحال کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ ان کی تجاویز میں کشتیوں کو روکنے کے لیے مشترکہ گشت، بہتر انٹیلی جنس کی شراکت اور فوری دو طرفہ معاہدے پر کام پر زور دیا گیا ہے۔بورس جانسن نے فرانس سے کہا ہے کہ وہ انگلش چینل عبور کر کے انگلینڈ پہنچنے والے تمام تارکین کو فوری طور پر واپس لے۔ فرانس کے ساتھ خطرناک راستے ذریعے انگلش چینل عبور کرنے والے تارکین وطن کو واپس لینے کے معاہدے کا فوری اور اہم اثر ہوگا۔


































